حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 162
حقائق الفرقان ۱۶۲ سُورَةُ الْبَقَرَة ۳۱۔وَ إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ - ترجمہ۔اور (اے پیغمبر ! وہ کیفیت بھی بیان کرو) جب تیرے رب نے کہا فرشتوں سے کہ میں خاص زمین میں ایک نائب حاکم بنانے والا ہوں ، فرشتوں نے عرض کی، کیا آپ ایسے شخص کو نائب بنائیں گے زمین میں جو وہاں فتنہ انگیزی اور خون ریزی کرے گا اور ہم تو تیری تعریف کے ساتھ کہتے ہیں کہ تیری ذات پاک خوبیوں ہی خوبیوں والی اور سب عیبوں سے پاک ہے۔اللہ نے فرمایا ، میں وہ بھید خوب جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔تفسیر۔خَلِيفَةً خَلِيْفَةٌ مِّنَ الله - خدا کی طرف سے بنا ہوا خلیفہ خلیفہ اللہ۔خلیفتہ اللہ کے یہ معنے کرنے کہ اللہ کا قائمقام غلط ہیں۔ہم نے کبھی کسی انسان کو انسانوں کی ربوبیت کرتے نہیں دیکھا۔اس واسطے ایسے معنے مشرکانہ ہیں۔خلیفہ وہ ہے جو کسی کے بعد آوے یا کسی کو اپنے پیچھے چھوڑ جائے۔نافذ الحکم اور بادشاہ کو بھی خلیفہ کہتے ہیں۔وَنَحْنُ ملائکہ نے پہلے عذر کیا۔مگر پھر کہا ہم بہر حال حاضر ہیں۔( البدر۔کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۷ ۱۷اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۸) سورۃ الحمد میں دو گروہوں کا ذکر ہے منعم علیہم ، مغضوب علیہم منعم علیہم کو متقین فرمایا اور بتایا کہ وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز پڑھتے ، اپنے مال و جان کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے اور یقین رکھتے ہیں کہ وحی کا سلسلہ ابتدائے خلق آدم سے تا قیامت جاری ہے۔یہ لوگ ہدایت کے گھوڑوں پرسوار ہیں اور مظفر و منصور ہوں گے۔دوم وہ لوگ ہیں جن کے لئے سنانا نہ سنانا برا بر ہے اور جو شرارت سے انکار کرتے ہیں مغضوب علیہم ہیں ایسے ہی منافق۔سوم وہ جو غلطی سے گمراہ ہیں یا بدعہد یوں کی وجہ سے یہ ضالّ ہیں۔اب ایک منعم علیہ کی مثال دے کر سمجھاتا ہے۔اللہ نے فرشتوں سے مشورہ نہیں کیا بلکہ انہیں