حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 152
حقائق الفرقان ۱۵۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ۲۳ - الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَ السَّمَاءِ بِنَاء وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَ أَنْتُمْ تَعْلَمُونَ - ترجمہ۔وہ رب جس نے ( چکر کھانے والی ) زمین کو تمہارے لئے بچھونا بنایا اور آسمان کو مضبوط چھت اور برسا یا بادل سے پانی پھر اگا ئیں اس کے ذریعہ سے کھانے کی چیزیں تمہارے لئے ، تو مت سمجھو اور نہ ٹھہراؤ اللہ کے جیسا کسی کو حالانکہ تم جانتے ہو۔تفسیر۔جس نے تمہارے لئے زمین کو گول پھر آرامگاہ بنایا اور آسمان کو ایسا کر دیا کہ وہ زمین کے قیام کا باعث ہو رہا ہے۔اور جہاں دیکھو وہ آسمان زمین کے لئے نیو ہے۔وہی جس نے بادلوں سے ایسا پانی اتارا جس سے تمہارے کھانے کے واسطے رنگ برنگ کے پھل نکالے ایسے محسن مربی کامل صفات کے جامع کا کسی کو کسی امر میں شریک نہ ٹھہراؤ۔اور تم جانتے ہو تمہارے انسانی عمدہ قومی میں اتنا تو رکھ ہی دیا ہے کہ ایسا محسن مربی کامل فرمانبرداری اور عبادت کا مستحق ہے پس اپنے قومی کو بریکار نہ کرو۔تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈیشن - صفحہ ۲۱۷) پھر اُس نے تمہیں اور تمہارے بڑوں کو ہی نہیں بنایا بلکہ تمہاری زندگی کے سامان بھی مہیا کئے۔رہنے کو زمین ، حفاظت کو آسمان ، بادل سے پانی اُتار کر طرح طرح کے میوے بطور رزق دیئے۔پس تم ایسے خدا کا کوئی (مد مقابل ) نہ ٹھہراؤ۔اور تم غور کرو تو خود اس نتیجہ پر پہنچ جاؤ اور یہ یقین ہو جائے کہ اللہ کا یہ واقعی کوئی نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۶ مورخه ۱۱ فروری ۱۹۰۹ صفحه ۷) سرکس میں تم لوگوں نے دیکھا ہوگا کہ جانور کس طرح اپنے مالک کے حکم کے ماتحت چلتے ہیں حالانکہ اس مالک نے نہ جان دی ہے نہ وہ کھانے پینے کی چیزیں پیدا کی ہیں۔جب ایک معمولی سے، اس کی اس قدر اطاعت کی جاتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ انسان اپنے مولیٰ کریم پر فدا نہ ہو جس نے اسے حیات بخشی ، رزق دیا، پھر قیام کا بندو بست کیا۔اس لئے فرمایا کہ منافقو ! تم معمولی فائدہ کے اٹھانے کے لئے جہان کا لحاظ کرتے ہو مگر کیوں نہیں اُس سچے مربی کے فرمانبردار ہوتے جو تمام انعاموں کا سرچشمہ ہے۔کم عقلو! اُس نے تمہیں پیدا کیا۔پھر تمہارے باپ دادا کو بھی پیدا کیا۔