حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 153
حقائق الفرقان ۱۵۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة پھر فرمانبرداری کرنے میں اللہ کا کچھ فائدہ نہیں بلکہ تم ہی دکھوں سے بچو گے اور سکھ پاؤ گے۔دیکھو! اس نے تم پر کیسے کیسے احسان کئے ہیں۔تمہارے لئے زمین بنائی جو کیسی اچھی آرام گاہ ہے پھل پھول اور طرح طرح کی نباتات پیدا کرتی ہے جسے تم کھاتے ہو۔پھر آسمان کو بنا یا جیسے ایک خیمہ ہے۔وہ زمین کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔پھر بادلوں سے پانی اُتارا اس سے رنگارنگ کے پھل اگائے۔یہ فضل ہوں اور پھر تم اس کا نڈ بناؤ۔بڑے افسوس کی بات ہے۔نڈ بنانا کیا ہے؟ سنو! یہ کہنا کہ دوست آ گیا تھا اس کی خاطر تواضع میں نماز رہ گئی۔بچوں کے کپڑوں اور بیوی کے زیوروں کی فکر تھی نماز میں شامل نہ ہو سکا۔رات کو ایک دوست سے باتیں کرتے کرتے دیر ہوگئی اس لئے صبح کی نماز کا وقت نیند میں گزر گیا۔غور کرو اس دوست یا اس شخص نے جس کے لئے تم نے خدا کے حکم کو ٹالا ویسے احسان تمہارے ساتھ کئے ہیں جیسے خدا تعالیٰ نے تم سے کئے؟ اسی طرح آجکل مجھے خط آ رہے ہیں کہ بارش ہوگئی ہے تخمریزی کا وقت ہے اگر آپ اجازت دیں تو روزے پھر سرما میں رکھ لیں گے۔یہ خدا تعالیٰ کے احکام کا استخفاف ہے اس سے توبہ کرلو۔یہ اپنے دنیاوی کاموں کو خدا کا نڈ بنانا ہے جو کفرانِ نعمت ہے۔الفضل جلد نمبر ۱۰ مورخه ۲۰ /اگست ۱۹۱۳ ء صفحه ۱۵) اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً (البقرة : ۲۳) یعنی یہ غلہ اناج وغیرہ کا میٹر (Matter) ہوا اور زمین میں موجود ہوتا ہے پھر جب تک آسمان سے پانی نازل نہ ہو اور اس سے ان میں نشو و نما پیدا نہ ہوں تب تک وہ غذا تمہارے کھانے کے قابل کب ہو سکتی ہے۔ادھر سے ہمارا مینہ آوے نیچے سے وہ دانہ نشوونما پاوے تب تم اس کو حاصل کر سکتے ہو۔پس تعلیم تو دنیا میں ضرور ہوتی ہے پھر جب تک آسمانی بارش یعنی الہام نازل نہ ہو وہ تعلیم نشو ونما نہیں پاسکتی۔الحکم- مورخہ ۲۴ /نومبر ۱۹۰۴ صفحه ۲) بناء۔آسمان کو جہاں دیکھو گول ہی نظر آتا ہے۔جیسے ڈیرہ اور خیمہ۔ند - مد مقابل۔نہ خدا کا کوئی شریک ہے نہ اس کا کوئی مد مقابل ہے۔البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۷ اکتوبر ۱۹۱۲ صفحه ۳۸)