حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 151 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 151

حقائق الفرقان ۱۵۱ سُورَةُ الْبَقَرَة تفسیر۔کوئی شخص کسی کے ساتھ نیکی کرے صرف ہنس کے بولے یا کسی دکھ کے وقت مدد دے تو آدمی اُس کا ممنون ہو جاتا ہے حالانکہ اگر غور کیا جاوے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب احسان دراصل اللہ تعالیٰ کا ہے جس نے اس محسن کو پیدا کیا پھر اس چیز کو جس سے احسان کیا گیا پھر خودا سے جس پر احسان ہو ا۔پس خدا کو بھول جانا انسانیت سے بعید ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اسی لئے اپنے رنگارنگ انعامات واحسانات کا ذکر فرماتا ہے چنانچہ یہاں بھی ارشاد کیا کہ لوگو! تم فرمانبردار بن جاؤ۔کس کے؟ اپنے پالن ہار کے۔جس نے تمہیں پیدا کیا۔پھر تمہیں ہی نہیں بلکہ تمہارے بڑوں کو بھی۔یعنی پشتہا پشت سے اس محسن کے احسان تم پر چلے آتے ہیں۔لعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔فرمانبردار بنو گے تو اس سے کوئی خدا کی خدائی بڑھ نہ جائے گی بلکہ اس میں بھی تمہارا ہی فائدہ ہے وہ یہ کہ تم ہی دکھوں سے بچو گے۔میں دیکھتا ہوں آ تشک انہی کو ہوتی ہے جو نا فرمانی کرتے ہیں۔میں نے کبھی نہیں دیکھا کسی کو نماز پڑھنے سے سوزاک ہو گیا یا ز کوۃ دینے سے کوڑھ ہو گیا ہو۔لوگ کہتے ہیں نیکی مشکل ہے یہ غلط ہے نیکی تو سکھوں کی ماں ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۶ مورخه ۱۱ فروری ۱۹۰۹ صفحه ۷ ) سنو ! اولوگو! فرمانبرداری کرو اپنے اس محسن، مربی کی جس نے تم کو اور تم سے پہلوں کو خلق کیا۔اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ دکھوں سے بیچ رہو گے۔( تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۱۷) ياَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُم - لوگو اپنے رب کے فرمانبردار بن جاؤ۔فرمانبرداری ضروری ہے مگر کوئی فرما نبرداری بدوں فرمان کے نہیں ہو سکتی اور کوئی فرمان اس وقت تک عمل کے نیچے نہیں آ تا جب تک کہ اس کی سمجھ نہ ہو۔پھر اس فرمان کے سمجھنے کے لئے کسی معلم کی ضرورت ہے اور الہی فرمان کی سمجھ بدوں کسی مزگی اور مطہر القلب کے کسی کو نہیں آتی کیونکہ لَا يَمَسة الا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة: ۸۰) خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔پس کیسی ضرورت ہے امام کی کسی مزکی کی۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۴ مورخه ۱۷ / اپریل ۱۹۰۱ صفحه ۳) لے اسے وہی چھوئیں گے اور سمجھیں گے جو پاک کئے گئے ہیں۔( ناشر )