حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 148
حقائق الفرقان ۱۴۸ سُورَةُ الْبَقَرَة شاعر کا ذکر کرتے ہیں کہ اس نے شعر کہا جو اس کی نظر میں خاص طور سے قابلِ انعام تھا اور اس نے سنا تھا کہ سعدی نے ایسا ایک شعر کہا تھا تو اُسے خاص طور سے انعامِ الہی ملے تھے۔پس اس امید پر اس نے آسمان کی طرف منہ اُٹھایا۔اتفاق سے ایک چیل کی بیٹ منہ میں پڑ گئی اس پر وہ بول اُٹھا کہ شعر نہی عالم بالا معلوم شد لے غرض ایسے ایسے نادان لوگ ہوتے ہیں بعض خدا کا ادب کرتے تو گردش دار اور زمانہ کو کوستے ہیں مگر اس کو سنے کا فائدہ کیا؟ اللہ جل شانہ نے یہ بات فرمائی کہ مینہ پڑتا ہے اس میں کڑک بھی ہوتی ہے بجلی بھی ہوتی ہے اندھیرے بھی ہوتے ہیں اس پر نادان تو غیر محل وغیر موقعہ پر اپنے بچاؤ کے سامان کرتے ہیں مگر وہی بارش بہتوں کے لئے مفید ہوتی ہے اسی طرح احکام شرع اور دنیا کی مصیبتیں جب نازل ہوں تو بہت سے لوگ ایمان لاتے ہیں اور مشکلات میں گھبراتے نہیں۔ایک جذامی کا حال مجھے معلوم ہے کہ میں نے اسے کہا کہ آپ کے علاج کا مجھ میں ایک جوش پیدا ہو گیا ہے۔اُس نے کہا کہ رہنے دیجئے میں تو جس حال میں ہوں خوش ہوں۔تنہائی ہے لوگ کم آتے ہیں دعاؤں کا موقع ملتا رہتا ہے اور بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ گھبرا جاتے ہیں اور خدا کو کوستے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ ہم خدا کا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔وہ بجلی اگر گر نے والی تھی تو ان کے روکنے سے رک نہیں سکتی پھر وہ خدا کا شکر کریں کہ ان کے کان تو ہیں اگر کان نہ ہوتے تو بجلی کی آواز کس طرح سنتے۔ان کی آنکھیں تو ہیں اگر یہ نہ ہوتیں تو پگ ڈنڈی کس طرح نظر آتی۔ہر ایک دُکھی اپنے سے بڑھ کر دُکھی کو اپنے ہی شہر میں دیکھ سکتا ہے پس اسے چاہیے کہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر کرے اور مشکلات میں گھبرائے نہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۶ مورخه ۱۱ فروری ۱۹۰۹ء صفحه ۷،۶) صیب۔دین کے کام میں مشکلات ہوتے ہیں اور یہ مشکلات منافقوں کی منافقت کو ظاہر کر دیتے ہیں۔منافقوں کو جب لڑائی کا حکم ہوتا تو عذر کر دیتے۔یہاں ہم نے ایک شخص کو جو مہاجر ہونے کا دعویٰ کرتا تھا ایک نصیحت کی کہ تم اپنی محنت سے کچھ عالم بالا کی سخن نہی معلوم ہوگئی۔(ناشر)