حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 147
حقائق الفرقان ۱۴۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة کو۔سماء کہتے ہیں ہر ایک بلند شئے کو جو کہ انسان کے اوپر ہو۔یہ سمو سے ہے جو کہ صورت اور معنے کی رُو سے علو کی مانند ہے اور مین کے معنے ہیں” سے۔رغد بادل کے گرجنے کی آواز کو کہتے ہیں۔برق بجلی جو کہ بادل میں یا آسمان کے کناروں پر چمکا کرتی ہے۔يَجْعَلُونَ جَعَلَ سے ہے جو بمعنے رکھنے کے ہے۔پس يَجْعَلُونَ کے معنے ہوئے رکھتے ہیں“۔رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۹۔مارچ ۱۹۰۷ ، صفحہ ۳۴۵) صیب مینہ کو کہتے ہیں۔صیب نیچے اترنے اور جھکنے کو۔مینہ کا پانی چونکہ نیچے کو گرتا ہے اس لئے اس کا نام صیب ہے۔من السماء یعنی اس مینہ کی طرح جو بادل سے گر رہا ہو۔پھر وہ مینہ کس وقت کا ہو جبکہ شورج بھی نہیں ، چاند بھی نہیں ، ستارے بھی نہیں۔اس پر بادلوں کا اندھیرا، اس میں رعد ہے یعنی بجلی کی کٹڑک اور برق یعنی بجلی۔نادان انسان اپنی انگلیاں کانوں میں کر لیتے ہیں موت سے بچنے کے لئے۔مگر ایسے لوگ واقعی کم عقل ہیں کیونکہ سائنسدان جانتے ہیں کہ بجلی بہت تیز ہے وہ روشنی سے بھی پہلے پہنچتی ہے اور آواز اس کے بعد آتی ہے چنانچہ چھاؤنیوں میں جہاں توپ دشتی ہے وہ جانتے ہیں کہ چمک پہلے پہنچتی ہے اور آواز اس کے پیچھے۔اسی طرح بجلی کی آواز کا حال ہے۔آواز پہنچنے پر انگلیاں کانوں میں کرنے اور چھپ جانے والا بیوقوف ہے کیونکہ جو مار بجلی نے کرنی ہوتی ہے وہ تو اس سے پہلے کر چکتی ہے۔منافق کی طبیعت کا حال بارش کی مثال سے کھلتا ہے جب بارش آتی ہے تو جولوگ ندیوں کے کنارے پر ہیں یا جن کے مکان کچے ہیں اور لپائی ٹھیک نہیں یا جنہوں نے نمک خرید رکھا ہے اُن کو بہت خطرہ ہوتا ہے اور بعض ایسے ہیں جو اس بارش کو اپنے لئے رحمت سمجھتے ہیں انہوں نے بجلی کی روک کے لئے سلاخیں اور تانبے کے تار کنوئیں میں ڈال رکھے ہوتے ہیں وہ بہر حال خوش حال ہوتے ہیں۔اسی طرح کمزور انسان زمانے کے حوادث کی تاب نہ لا کر ایمان سے دور چلے جاتے ہیں۔بعض وقت غریبی کے سبب خدا کو کوستے ہیں۔لڑکا مر جاتا ہے تو خدا کو گالیاں دیتے ہیں۔ایسے نابکار بھی میں نے دیکھے ہیں جو خدا کی خدائی پر الزام دیتے ہیں اور تھوڑی سی مصیبت کو برداشت نہیں کر سکتے۔ایک