حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 143 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 143

حقائق الفرقان ۱۴۳ سُورَةُ الْبَقَرَة آگ جلائے تو اس سے یہ فائدہ اٹھا لیتا ہے کہ شیر، چیتے اور ایسے درندے اس کے پاس نہیں پھٹکنے پاتے۔اسی طرح منافق بظاہر اسلام کا اقرار کر کے مصائب سے عارضی طور پر بچاؤ کر لیتا ہے لیکن بعد میں بلائیں ، جفائیں اسے گھیر لیتی ہیں۔اس کا نفاق کھل جاتا ہے پھر کچھ سوجھ نہیں پڑتا۔غرض اپنا ظاہر کچھ باطن کچھ بنانے والے ضرور نقصان اُٹھاتے ہیں۔الفضل جلد نمبر ۹ مورخه ۱۳ اگست ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) اشتری۔یہاں پر کوئی حقیقی خرید و فروخت مراد نہیں ہے بلکہ یہاں پر اس سے یہ مراد ہے کہ انہوں نے ہدایت کو ترک کر دیا ہے اور بجائے اس کے گمراہی کو اختیار کر لیا ہے۔۔۔حضرت عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن مسعود اور اور بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے یہی معنے کئے ہیں اور۔۔۔مَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ( نہ وہ راہ پانے والے بنے) سے یہ مراد ہے کہ وہ تجارت کی صحیح راہ نہ پا سکے یہاں تک کہ تجارت سے اصل مقصود تو یہ ہوتا ہے کہ اصل مال قائم رہے اور اس سے علاوہ کچھ زائد فائدہ بھی حاصل ہو جائے لیکن منافقوں نے اصل مال ( یعنی فطرت سلیم اور تحصیل کمالات کی فطرتی استعداد ) کو ہی ضائع کر دیا۔(رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۹۔مارچ ۱۹۰۷ صفحہ ۳۳۳) ۱۸ ۱۹ - مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا ۚ فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللهُ بِنُورِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِي ظُلمتِ لاَ يُبْصِرُونَ - صُمٌّ بُكُمُ عُمَى فَهُمْ لَا می 21 وور يرجعون۔2 ترجمہ۔جیسے ایک آدمی ہے جس نے آگ سلگائی تو جب آگ نے اجالا کیا آگ سلگانے والے کے آس پاس تو اللہ نے اُن کا نور اور اجالا کھود یا اور اُن کو گھٹا ٹوپ اندھیروں میں چھوڑ دیا، وہ کچھ دیکھتے نہیں ہیں۔بہرے ہیں (حق سننے سے ) گونگے ہیں (حق بولنے سے ) اندھے ہیں (حق دیکھنے سے ) وہ پھرنے والے حق کی طرف نہیں۔تفسیر۔حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا قاعدہ تھا کہ جہاں کوئی میلہ ہوتا یا کوئی مجلس تو