حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 142 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 142

حقائق الفرقان ۱۴۲ سُورَةُ الْبَقَرَة اس زمانے کا حال دیکھ کر تعجب آتا ہے کیونکہ اس میں منافق طبع بہت ہیں۔زبان سے تو کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں مگر مومن نہیں کیونکہ ان کے عقائد سے ان کے اعمال کی مطابقت نہیں۔عیسائیوں نے سوال کیا ہے کہ نجات کس طرح ہوتی ہے اور میں نے جواب دیا ہے کہ نجات فضل سے ہے اور اس خدا کے فضل کو ایمان کھینچتا ہے۔اس واسطے یہ بھی صحیح ہے کہ نجات ایمان سے ہے۔پھر کہتے ہیں عمل کوئی چیز نہیں حالانکہ کون دنیا میں ایسا ہے کہ آگ کو آگ مان کر پھر اس میں ہاتھ ڈالے۔پانی کو پیاس بجھانے والا جان کر پھر پیاس لگنے پر اس سے پیاس نہ بجھائے۔ہم تو یہی دیکھتے ہیں کہ جب ایمان ہے پانی پیاس بجھاتا ہے تو پیاس لگنے کے وقت اس پانی سے پیاس ضرور بجھائی جاتی ہے۔پس کیا وجہ ہے کہ یہ ایمان ہو قرآنِ مجید خدا تعالیٰ کی کتاب ہے اور اعمال کی جزا وسز اضروری ہے اور پھر اس پر عمل درآمد نہ ہو؟ بہت سے لوگ ہیں جو اپنے اوپر خدا کے بہت سے فضلوں کا اقرار کرتے ہیں اور اپنے مقابل میں دوسروں کا ایمان حقیر سمجھتے ہیں مگر عمل میں کچے ہیں۔منہ سے بہت باتیں بناتے ہیں مگر عمل درآمد خاک بھی نہیں۔ایسے لوگوں کو نصیحت کی جائے تو کہتے ہیں ہم تو مانتے ہیں مگر اپنے شیاطین اپنے سرغنوں کے پاس جا کر کہتے ہیں کہ ہم تو ان مسلمانوں کو بناتے ہیں ان کو حقیر سمجھتے ہیں۔اِستہزاء ھزو سے نکلا ہے۔ہلکی چیز کو چونکہ آسانی سے ہلایا جا سکتا ہے اس لئے استہزاء تحقیر کو کہتے ہیں۔اللہ ان کو ہلاک کرے گا کسی کو جلد کسی کو دیر سے۔اللہ تو تو بہ کے لئے ڈھیل دیتا ہے مگر اکثر لوگ خدا کی حد بندیوں کی پرواہ نہیں کرتے۔حد بندی سے جوشِ نفس کے وقت یوں نکل جاتے ہیں جیسے دریا کا پانی جوش میں آ کر کناروں سے باہر نکل جائے۔ایسے لوگ ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی لیتے ہیں۔یہ تجارت جس میں ہدایت چھوڑی اور گمراہی اختیار کی ان کے لئے نافع نہیں ان کے لئے پاک ہدایت ایسی ہے جیسے میں نے طب میں دیکھا ہے کہ بعض وقت نرم کھچڑی شدّت صفراء کی وجہ سے نہایت تلخ معلوم ہوتی ہے۔یہ لوگ ہدایت کی باتوں کی قدر اور حقیقت سے بوجہ اپنے مرض قلبی کے آگاہ نہیں۔پس ایسے لوگ اگر ایمان کا اظہار بھی کرتے ہیں تو اپنے نفع کے لئے جیسے کوئی آدمی جنگل میں