حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 141 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 141

حقائق الفرقان ۱۴۱ سُورَةُ الْبَقَرَة یہ بیان ہے منافقوں کے حالات کا جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ ہوتا ہے۔دل میں کپٹ ہوتی ہے اور ظاہر میں ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔مومنوں کی تحقیر و اہانت اور تخفیف کرتے ہیں۔آخر اللہ تعالیٰ ان کی تحقیر، اہانت اور تخفیف کرتا ہے اور کرتا رہے گا اور ہلاک کر دے گا اور ان کے عیوب و نقائص کی اطلاع دیتا ہے اور دیتا رہے گا اس لئے کہ دنیا میں ان کی ہنسی ہو۔یہ بڑی بھاری پیشگوئی ہے اور وہ روز روشن کی طرح پوری ہوئی کہ تمام وہ لوگ جو اسلام پر جنسی اُڑاتے اور اس کی تحقیر کرتے تھے خدا تعالیٰ نے انہیں ضعیف و حقیر کر دیا۔صداقتوں اور واقعات حقہ پر اعتراض کرنا سخت ناپاکی اور جہالت نہیں تو کیا ہے؟ ( نور الدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈیشن۔صفحہ ۱۱۱، ۱۱۲) السُّفَهَاءُ۔سفاہت نام ہے اضطراب کا۔پتلے کپڑے کو بھی سفیہ کہتے ہیں۔فما ربحت تُجَارَتُهُمْ۔ضالین بڑے تاجر ہوں گے مگر دینی ہدایت نہ لیں گے نہ دینی نفع تشخید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۳۶) اُٹھائیں گے۔فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ۔ان کی تجارت بھی ان کے لئے فائدہ مند نہ ہوئی۔اس کی مثال انگریزوں کے حالات میں خوب پائی جاتی ہے۔کس قدر وسیع تجارت کرتے ہیں۔سب ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔سب زبانیں سیکھتے ہیں۔تمام علوم میں ترقی کرتے ہیں۔لیکن یہ توفیق نہیں ہوتی کہ اپنے مذہب کی اصلاح کر لیں۔فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ان کی تجارت نے ان کو یہ فائدہ نہ دیا کہ وہ راہ پانے والے ہو جاتے۔ہر ایک ملک سے وہاں کی صنعت کا نمونہ لے جاتے ہیں۔چکیاں، جوتیاں، لوہاروں کی چیزیں، ترکھانوں کی چیزیں، کشیدہ، برتن۔غرض ہر شے کا نمونہ ہر ملک سے لیتے ہیں اور اس کی نقل کرتے ہیں بلکہ اس سے بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں مگر اتنی عقل نہیں اور نہ تو فیق ملتی ہے کہ اور مذاہب میں سے اچھے مذہب کو قبول کریں اور اُس سے فائدہ اُٹھا ئیں۔( البدر۔کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۷ اکتوبر ۱۹۱۲ صفحه ۳۷)