حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 140
حقائق الفرقان ۱۴۰ مُسْتَهْزِعُونَ ۔ تحقیر کرتے ہیں ۔ خفیف سمجھتے ہیں۔ ھرو کے معنے ہیں ۔ تحقیر کرنا۔ اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ سُورَةُ الْبَقَرَة البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۲) استہزاء کا بدلہ دے گا یا حقیر کرے گا ان کو اور یمن کے معنے یہاں پر زیادہ کرنے کے ہیں نہ عمر میں لمبائی کرنے کے، کیونکہ اس کے بعد لام آیا کرتا ہے جو کہ یہاں پر نہیں ہے۔ پس یمنھم کے معنے ہوئے زیادہ کرتا ہے ان کو جیسا کہ من الجيش اور آمد الجیش کے معنے ہیں لشکر کو زیادہ کیا اور قوی کیا ۔ طغیان کے معنے سرکشی کے ہیں اور حضرت ابن عباس اور بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ طغیان سے مراد کفر ہے اور معنے یہ ہوئے اور ان کو زیادہ کرتا یا مہلت دیتا ہے کفر میں ۔ يَعْمَهُونَ عَمه سے ہے اور عمہ کہتے ہیں ترددکو۔ يَعْمَهُونَ حیران اور متردد ہیں ۔ ( رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد ا نمبر ۸ فروری ۱۹۰۷ء صفحه ۳۱۰) ا - ذَكَرَ مُحَمَّةُ الْإِسْلَامِ الْغَزَالِيُّ - أَنَّ الْإِسْتِهْزَاء الْإِسْتِحْقَارُ وَالْإِسْتِهَانَةُ وَالتَّنْبِيهُ عَلَى الْعُيُوبِ وَالنَّقَائِصِ عَلَى وَجْهِ يُضْحَكُ مِنْهُ ۱۲ ( رُوح المعانی ) تحقیر کو استہزاء کہتے ہیں۔ ۲ - الهزأة اصله الخِفَّةُ وَهُوَ الْقَتْلُ السَّرِيعُ هَذَا يَهْزَأَ : مَات فَجَاءَةً وَتَهْزَأُبِهِ ناقة: أنى تُسْرِعُ بِهِ وَتَخِفُ " فتح ۔ ہا کا سمجھنے ، جلدی قتل کرنے ، اچانک مرنے کو هزو کہتے ہیں ۔ پس اللهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِم (البقرة : ۱۶) کے معنے ہوئے اللہ تحقیر کرے گا، اہانت کرے گا اور ان کے عیوب ونقائص سے خلقت کو ایسی آگہی دے گا کہ ان کی ہنسی ہو اور اللہ تعالیٰ ان کو خفیف کرے گا۔ جلدی ہلاک کر دے گا۔ اے حجت الاسلام امام غزالی نے بیان کیا ہے کہ عیوب اور نقائص پر اس طور پر اطلاع دینا کہ اس پر ہنسا جائے نیز تحقیر اور اہانت کرنا استہزاء کہلاتا ہے۔ ۲۔ هَزْى ةً فِي الأصل ۔ ہلکا سمجھنا اور جلدی سے قتل کرنا ہے ۔ هَذَى ۔ يَهْزَى ۔ اچانک فوت ہو گیا ۔ تَهْزَى بِهِ نَاقَةٌ تُسْرِعُ بِهِ وَتَخِفُ (ناشر)