حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 139
حقائق الفرقان ۱۳۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة رہتے ہیں۔ایک شخص کا مسجد میں اپنے ہم عصروں اور ملنے والوں کے سامنے ایماندار ہو ناسہل ہے لیکن خلوت میں جہاں اسے کوئی نہیں دیکھتا بجز اللہ تعالیٰ کے اس کا مومن رہنا ایک امرا ہم ہے لیکن متقی خلوت اور جلوت میں برابر مومن رہتے ہیں۔اسی بنا پر کسی نے کہا ہے۔مشکل دارم ز دانشمند مجلس باز پرس تو بہ فرمایاں چرا خود تو به کمتر می کنند اے واعظاں کہیں جلوہ بر محراب و منبر میکنند بچوں بخلوت می روند آن کار دیگر می کنند ۲؎ پھر ایمان بالغیب میں بہت سی باتیں ہیں جن کو ماننا چاہیئے۔اصل میں ثواب کے حاصل کرنے کے لئے ایمان بالغیب ضروری شئے ہے۔اگر کوئی شخص مثلاً آفتاب و ماہتاب پر ایمان لاوے تو تم ہی بتاؤ کہ یہ ایمان اس کو کس ثواب کا مستحق اور وارث بنائے گا؟ کسی کا بھی نہیں۔لیکن جن چیزوں کو اُس نے دیکھا نہیں ہے صرف قرائن قویہ کی بنا پر ان کو مان لینا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں آئی ہیں ایمان بالغیب ہے جو سودمند اور مفید ہے۔پھر فرمایا کہ جب انسان ایمان لاتا ہے تو اس کا اثر اس کے جوارح پر بھی پڑنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان کے لئے تعظیم لامر اللہ کا لحاظ ہو اس لئے فرمایا وَ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ یہ متقی وہ لوگ ہوتے ہیں جو نماز کو قائم کرتے ہیں کیونکہ نماز اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کا موقع ہے مومن کو چاہیے کہ نماز کو اسی طرح پر یقین کرے۔ابتداء نماز سے جب اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے اور کانوں پر ہاتھ رکھتا ہے تو گویا دنیا اور اس کی مشیختوں سے الگ ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ سے ہی سروکار رکھتا ہے پھر اپنے مطالب و مقاصد بیان کرے۔نماز میں قیام، رکوع، سجدہ اور سجدہ سے اُٹھ کر پھر دوسرے سجدہ میں اپنے مطالب بیان کر سکتا ہے پھر التحیات میں صلوۃ اور درود کے بعد دعامانگ سکتا ہے۔گویا یہ سات موقعے دعا کے نماز میں رکھے ہیں۔الحکم جلد ۸ نمبر ۱۶ مورخه ۱۷ رمئی ۱۹۰۴ء صفحه ۸) لے مجھے مجلس کے دانشمند سے اس بات کی پوچھ کچھ کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے کہ یہ جو تو بہ کرنے کا حکم صادر کرتے ہیں یہ خود تو بہ کیوں نہیں کرتے۔کہ یہ واعظ لوگ جو محراب و منبر پر جلوہ گری کرتے ہیں جب یہ تنہائی میں جاتے ہیں تو پھر دوسرا ہی کام کرتے ہیں۔( شرح دیوانِ حافظ شیرازی غزل نمبر ۱۴۲) (ناشر)