حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 138 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 138

حقائق الفرقان ۱۳۸ سُورَةُ الْبَقَرَة اس نکتہ سے دور ہیں ان کے نزدیک مسلمانوں کے ادبار کا باعث یورپ کے علوم کا حاصل نہ کرنا ہے اور ترقی کا ذریعہ انہیں علوم کا حاصل کرنا ہو سکتا ہے حالانکہ قرآن شریف یہ کہتا ہے کہ قرآن پر ایمان لانے والے اور عمل درآمد کرنے والے معزز ہو سکتے ہیں بلکہ میرا تو یہ ایمان ہے کہ جب انسان کامل طور پر قرآن کی حکومت کے نیچے آجاتا ہے تو وہ حکومت اس کو خود حکمران بنا دیتی ہے اور دوسروں پر حکومت کرنے کی قابلیت عطا کرتی ہے جیسا کہ اوليك هُمُ الْمُفْلِحُونَ (البقرة: ٢) سے پایا جاتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اللہ جو بہت جاننے والا ہوں یہ ہدایت نامہ دیتا ہوں جس میں کوئی ہلاکت کی راہ نہیں اور نکتہ گیری کا کوئی موقع نہیں ہے ہاں یہ ضروری ہے کہ قرآن سے فائدہ اٹھانے والا انسان تقوی شعار ہو، متقی ہو۔ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کو ان لوگوں کے لئے ہدایت نامہ قرار دیا ہے جو متقی ہیں اور دوسرے مقام پر علوم قرآنی کی تحصیل کی راہ بھی تقوی ہی قرار دیا ہے جیسے فرمایا وَ اتَّقُوا اللهَ وَ يُعَلِّمُكُمُ اللهُ (البقرة: ۲۸۳) یعنی تقوی اختیار کرو اللہ تعالیٰ تمہارا معلم ہو جائے گا۔تقویٰ کے پاک نتائج بڑے عظیم الشان ہوتے ہیں ان میں سے ایک تو وہ ہے جو میں نے ابھی بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اس کا معلم ہو جاتا ہے اور قرآنی علوم اس پر کھلنے لگتے ہیں پھر تقویٰ ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے جیسے فرما یا إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ (النحل : ۱۳۹) بے شک اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ضرور ہوتا ہے جو متقی ہوتے ہیں اور ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو محسنین ہوتے ہیں۔احسان کی تعریف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی ہے کہ وہ خدا کو دیکھتا ہواگر یہ نہ ہو تو کم از کم یہ کہ وہ اس پر ایمان رکھتا ہو کہ اللہ اس کو دیکھتا ہے۔پھر یہ بھی تقوی ہی کے نتائج اور ثمرات میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر تنگی سے منتقلی کو نجات دیتا ہے اور اس کو مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَيبُ ( الطلاق : ۴) رزق دیتا ہے متقی اللہ کا محبوب ہوتا ہے يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ۔غرض تقولی پر ساری بناء ہے۔پھر فرمایا کہ متقی کون ہوتے ہیں؟ ان کی پہلی نشانی یہ ہے يُؤْمِنُونَ بِالْغَیبِ وہ الغیب پر ایمان لاتے ہیں خلوت اور جلوت میں برابر مومن ا۔یہی لوگ نہال اور با مراد ہیں۔۲؎ جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہو۔(ناشر)