حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 134 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 134

حقائق الفرقان ۱۳۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ہیں اگا اللہ اعلم۔پھر الحمد شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایک کامل دعا تعلیم فرمائی تھی اِهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم یعنی ہم کو اقرب راہ کی جو تیرے حضور پہنچنے کی ہے راہنمائی فرما۔وہ راہ جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہو ا یعنی نبیوں ،صدیقوں اور شہیدوں اور صالحوں کی راہ۔سورۃ فاتحہ میں یہ دعا تعلیم ہوتی ہے لیکن اس سورۃ بقرۃ میں اس دعا کی قبولیت کو دکھایا ہے اور اس کا ذکر فر ما یا جبکہ ارشاد الہی یوں ہوا ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یہ وہ ہدایت نامہ ہے یعنی متقی اور با مراد گروہ کا ہدایت نامہ۔ہاں انعمت علیہم گروہ کی راہ یہی ہے۔پھر منعم علیہ گروہ کے اعمال و افعال کا ذکر کیا اور ان کے ثمرات میں اولكَ عَلَى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ فرمایا۔ان کے افعال و اعمال میں بتایا کہ وہ الغیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی وحی اور کلام اور سلسلہ رسالت پر ایمان لاتے ہیں، جزا و سزا پر ایمان لاتے ہیں۔یہ منعم علیہ گروہ کی راہ ہے۔اب ہر ایک شخص کا جو قرآن شریف پڑھتا ہے یا سنتا ہے یہ فرض ہے کہ وہ اس رکوع سے آگے نہ چلے جب تک اپنے دل میں یہ فیصلہ نہ کر لے کہ کیا مجھ میں یہ صفات یہ کمالات ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو وہ مبارک ہے اور اگر نہیں تو اسے فکر کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے رو رو کر دعائیں مانگنی چاہئیں کہ وہ ایمان صحیح عطا فرما دے۔يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ در اصل عقائد صحیحہ کومشتمل ہے اور يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مسئلہ رسالت اور الہام و وحی کے متعلق ہے اور بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ جزا وسزا کے متعلق ہے۔پھر ان اعمال و افعال کے ثمرات میں أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ بتایا ہے۔اگر انسان حقیقی کامیابی حاصل کرتا ہے اور بامراد ہو رہا ہے تو اسے خوش ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے منعم علیہ گروہ کے زمرہ میں شامل ہے لیکن اگر نہیں تو پھر فکر کا مقام اور خوف کی جاہے۔پس قرآن کریم کی تلاوت کی اصل غرض یہی ہے کہ انسان اس پر عمل کرے۔منعم علیہ گروہ کے ذکر کے بعد پھر بتایا کہ مغضوب علیہم کون لوگ ہیں ان کے کیا نشانات ہیں؟ اور ان کا انجام کیا ہوتا