حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 133 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 133

حقائق الفرقان ۱۳۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة عِلمًا (طه: ۱۱۵) تم بھی دعا کرو۔یا درکھو کہ اگر انعمت علیہم میں سے ہو تو اور ترقی کرو اور کسی وجود کی جو خدا کی طرف سے آیا ہے وجود اور عدم وجود کو برابر نہ سمجھو۔ظاہر و باطن مختلف نہ ہو۔دنیا کو دین پر مقدم نہ کرو۔بعض اوقات دنیا داروں کو دولت ، عزت اندھا کر دیتی ہے۔خدا کی برسات لگ گئی ہے وہ اب نیچے پودوں کو نشو ونما دے گی۔اور ضرور دے گی خدا کی ان ساری باتوں پر ایمان لا کر بچے معاہدہ کو یا درکھو ایسا نہ ہو کہ اذا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا (البقرة : (۱۵) ہی کے مصداق رہ جاؤ۔اس کا اصل علاج استغفار ہے اور استغفار انسان کو ٹھوکروں سے بچانے والا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۴۳ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۰۱ ء صفحه ۸،۷) جس قدر انسانی فطرت اور اس کی کمزوریوں پر نظر کرو گے تو ایک بات فطرتی طور پر انسان کا اصل منشاء اور مقصد معلوم ہوگی وہ ہے حصول سکھ۔اس کے لئے وہ ہر قسم کی کوششیں کرتا اور ٹکریں مارتا ہے لیکن میں تمہیں اس فطرتی خواہش کے پورا کرنے کا ایک آسان اور مجرب نسخہ بتا تا ہوں کوئی ہو جو چاہے اس کو آزما کر دیکھ لے۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس میں ہرگز ہرگز کوئی خطا اور کمزوری نہ ہو گی اور میں یہ بھی دعوی سے کہتا ہوں کہ جس قدر کوششیں تم ناجائز طور پر سکھ کے حاصل کرنے کے لئے کرتے ہو اس سے آدھی ہی اس کے لئے کرو تو کامل طور پر سکھ مل سکتا ہے وہ نسخہ راحت یہ کتاب مجید ہے اور میں اسی لئے اس کو بہت عزیز رکھتا ہوں اور اس وجہ سے کہ کامل مومن اس وقت تک انسان نہیں ہوتا جب تک اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے کرتا ہے۔میں اس کتاب کا سنانا بہت پسند کرتا ہوں۔اس کتاب مجید کی یہ پہلی سورۃ شریف ہے اور اس میں الحمد شریف کی گویا تفسیر ہے بلکہ یہ کہنا چاہیئے کہ الحمد شریف کی تفسیر میں سے پہلی سورۃ ہے۔الحمد شریف کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اسماء ظاہری اللہ رب العلمينَ ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مُلِكِ يَوْمِ الدین سے شروع فرمایا تھا اور اس سورہ شریفہ کو اسماء باطنی سے شروع فرمایا یعنی اللہ جس کے معنی لے اور کہا کہ اے میرے رب ! مجھے علم اور زیادہ دے۔( ناشر )