حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 132
حقائق الفرقان ۱۳۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة جائے گی۔اسی طرح پر میں دیکھتا ہوں کہ خدا کا خوف اُٹھ گیا ہے۔وہ دعولی اور معاہدہ کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا قابل غور ہو گیا ہے۔اب اپنے حرکات وسکنات ، رفتار و گفتار پر نظر کرو کہ اس عہد کی رعایت کہاں تک کی جاتی ہے۔پس ہر وقت اپنا محاسبہ کرتے رہو ایسا نہ ہو کہ مَاهُمْ بِمُؤْمِنین کے نیچے آ جاؤ۔منافق کی خدا نے ایک عجیب مثال بیان کی ہے کہ ایک شخص نے آگ جلائی مگر وہ روشنی جو آگ سے حاصل کرنی چاہیے تھی وہ جاتی رہی اور ظلمت رہ گئی۔رات کو جنگل کے رہنے والے درندوں سے بچنے کے واسطے آگ جلایا کرتے ہیں لیکن جب وہ آگ بجھ گئی تو پھر کئی قسم کے خطرات کا اندیشہ ہے۔اسی طرح پر منافق اپنے نفاق میں ترقی کرتے کرتے یہاں تک پہنچ جاتا ہے اور اس کا دل ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ حق کا گویا شنوا اور حق کا بینا نہیں رہتا۔ایک شخص اگر راہ میں جاتا ہو اور سامنے ہلاکت کا کوئی سامان ہو وہ دیکھ کر بچ سکتا یا کسی کے کہنے سے بچ سکتا یا خود کسی کو مدد کے لئے بلا کر بیچ سکتا ہے مگر جس کی زبان، آنکھ ، کان کچھ نہ ہو اس کا بچنا محال ہے۔یا جوج ماجوج بھی آگ سے بڑے بڑے کام لے رہے ہیں مگر انجام وہی نظر آتا ہے۔مومن کا کام ہے کہ جب دعویٰ کرے تو کر کے دکھاوے کہ عملی قوت کس قدر رکھتا ہے۔عمل کے بدوں دنیا کا فاتح ہونا محال ہے۔یا درکھو ہر ایک عظیم الشان بات آسمان سے ہی آتی ہے۔یہ امر خدا کی سنت اور خدا کے قانون میں داخل ہے کہ امساک باراں کے بعد مینہ برستا ہے۔سخت تاریکی کے بعد روشنی آتی ہے اسی طرح پر فیج اعوج اور سخت کمزوریوں کے بعد ایک روشنی ضروری ہے وہ شیطانی منصوبوں سے ٹل نہیں سکتی بہتوں کے لئے اس میں ظلمت اور دکھ ہو اور ایک نمک کا تاجر جو اس میں جا رہا ہے اسے پسند نہ کرے۔بہت سے لوگ روشنی سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں اور اکثر ہوتے ہیں جو اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں مگر احمقوں کو اتنی خبر نہیں ہوتی کہ خدائی طاقت اپنا کام کر چکی ہوتی ہے۔غرض یہ ہے کہ علم حاصل کرو اور پھر عمل کرو۔علم کے لئے معلم کی ضرورت ہے۔یہ دعوی کرنا کہ ہمارے پاس علم القرآن ہے صحیح نہیں ہے۔ایک نوجوان نے ایسا دعوی کیا۔ایک آیت کے معنے اس سے پوچھے تو اب تک نہیں بتا سکا۔ہمارے بادی کامل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ت یہ تعلیم ہوتی ہے قُلْ رَّبِّ زِدْنِي