حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 130
حقائق الفرقان سُورَةُ الْبَقَرَة وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا (البقرة : (۱۵) یہ آیتیں سورۃ بقرہ کے دوسرے رکوع کی ہیں۔الحمد شریف میں خدا تعالیٰ نے تین راہیں بتائی ہیں ایک انْعَمْتَ عَلَيْهِم کی راہ۔دوسرے مَغْضُوب۔تیسرے الصَّالِین کی راہ۔أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم کے معنے خود قرآن شریف نے بتائے ہیں کہ وہ انبیاء، اصدقاء،شہداء اور صالحین کی جماعت ہے۔انبیاء وہ رفیع الدرجات انسان ہوتے ہیں جو خدا سے خبریں پاتے ہیں اور مخلوق کو پہنچاتے ہیں۔پھر وہ راستباز ہیں جو انبیاء کی تصدیق کرتے ہیں اور پھر وہ لوگ ہیں جن کے لئے وہ باتیں گویا مشاہدہ میں آئی ہوئی ہیں اور پھر عام صالحین۔اس گروہ کی تفسیر خدا تعالیٰ نے آپ ہی سورۃ بقرۃ کے شروع میں بیان کر دی ہے کہ ہدایت کی راہ کیا ہے؟ وہ یہ کہ اللہ پر ایمان لائے ، جزا وسزا پر ایمان لاوے اور پھر اللہ ہی کی نیازمندی کے لئے تعظیم لامر اللہ کے واسطے نمازوں کو درست رکھنا اور شفقت علی خلق اللہ کے واسطے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اُن کو دیا ہے اس میں سے خرچ کریں۔پھر اس بات پر ایمان لاویں کہ ہمیشہ خدا تعالیٰ سے تسلی اور تعلیم پا کر دنیا کی اصلاح کے لئے معلم اور مزکی آئے ہیں۔یا د رکھو صرف علم تسلی بخش نہیں ہو سکتا جب تک معلم نہ ہو۔بائبل میں نصیحتوں کا انبار موجود ہے اور عیسائی بھی بغل میں کتاب لئے پھرتے ہیں۔پھر اگر ایمان صرف کتابوں سے مل جاتا تو کیا کمی تھی مگر نہیں ایسا نہیں۔خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو بھیجتا ہے جو يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ (الجمعة: ۳) کے مصداق ہوتے ہیں۔ان مزگی اور مطہر لوگوں کی توجہ، انفاس اور رُوح میں ایک برکت اور جذب ہوتا ہے جو ان کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے انسان کے اندر تزکیہ کا کام شروع کرتا ہے۔یاد رکھو انسان خدا کے حضور نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ کوئی اس پر خدا کی آیتیں تلاوت کرنے والا اور پھر مزکی کرنے والا اور پھر علم ا جوان کو اس کی آیتیں پڑھ پڑھ کرسنا تا اور ان کو پاک صاف کرتا اور ان کو کتاب و دانائی کی باتیں سکھاتا ہے۔(ناشر)