حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 119 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 119

حقائق الفرقان 119 سُوْرَةُ الْبَقَرَة دُنیا میں بھی یہ کم عذاب نہیں۔زَادَهُمُ اللہ پر مفسرین نے بہت اختلاف کیا ہے مگر جب یہ امر واقعہ ہے تو اس پر اختلاف کیسا ؟ یہ سب کچھ نتیجہ ہے جھوٹ بولنے کا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۶ مورخه ۱۱ فروری ۱۹۰۹ صفحه ۵) نفاق ایک قلبی مرض کا نام ہے۔اس کی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس کے مریض میں قوت فیصلہ بہت کمزور ہوتی ہے اور اسے کسی کے مقابلہ کی طاقت نہیں ہوتی۔ابتداء میں جبکہ اسلام کی جمعیت کم تھی اور مسائل تھوڑے تھے تو ایسی حالت میں جب ان کو جھوٹ اور مداہنہ سے کام لینا پڑا حالانکہ اُس وقت ادنیٰ سے ادنی انسان بھی مقابلہ کرتا تھا۔تو جب اسلام کی جمعیت ترقی کرے گی اور مسائل بڑھتے جاویں گے تو اپنی اس کمزوری کی وجہ سے ہر ایک بات اور حکم پر وہ امَنَّا وَ صَدَّقْنَا کہیں گے حالانکہ ان کے دل میں وہ بات نہ ہوگی۔گویا اس طرح سے ان کو زیادہ جھوٹ بولنا پڑے گا اور جن جن باتوں کو ان کے دل تسلیم نہیں کرتے ان ان باتوں کو زبان سے ماننا پڑے گا اور انجام یہ ہوگا کہ ہلاکت لا کا طعمہ بن جاویں گے۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۱۱) جیسے ایک مریض بعض اوقات اپنا ذائقہ تلخ ہونے کی وجہ سے مصری کو بھی تلخ بتاتا ہے وہ کہہ دیتا ہے کہ مجھے اس سے لذت نہیں آتی۔اس کے کہنے پر کیا انحصار ہے خدا تعالیٰ نے خود فیصلہ کر دیا ہے فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا اور پھر صاف صاف ارشاد کر دیا لا يَمَسة الا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة :۸۰) جس جس قدر انسان پاکیزگی تقویٰ اور طہارت میں ترقی کرے گا اُسی اُسی قدر قرآن شریف کے ساتھ محبت اس کے مطالعہ اور تلاوت کا جوش اور اس پر عمل کرنے کی توفیق اور قوت اسے ملے گی لیکن اگر خدا تعالیٰ کے احکام اور حدود کی خلاف ورزی میں دلیری کرتا ہے اور گندی صحبتوں اور ناپاک مجلسوں اور ہنسی ٹھٹھے کے مشغلوں سے الگ نہیں ہوتا۔وہ اگر چاہے کہ اس کو قرآن شریف پر غور و فکر کرنے کی عادت ہوتد بر کے ساتھ اس کے مضامین عالیہ سے حظ حاصل کرے۔ایں خیال است و محال است و جنون۔الحکم جلد ۸ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ / ا پریل ۱۹۰۴ ، صفحه ۱۶، ۱۷) لے اسے وہی چھوئیں گے اور سمجھیں گے جو پاک کئے گئے ہیں۔( ناشر )