حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 118 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 118

حقائق الفرقان ۱۱۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ہیں۔ترک کرتے ہیں اللہ کو۔وَهُوَ خَادِعُهُمُ اور وہ چھوڑنے والا ترک کرنے والا ہے ان کو۔قرآن کریم میں دوسرے موقعوں پر منافقوں کے حق میں فرمایا ہے۔وَ تَرَكَهُمْ فِي ظُلمتِ (البقرة :۱۸) وَ يَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ (الاعراف: ۱۸۷) وغيره يَخْدَعُونَ کے معنے يُمْسِكُونَ يَبْخُلُونَ کیا معنے ؟ خادع۔مزید کے معنے ہیں۔ترک اور مجرد کے معنے ہیں۔امسك۔بخل اور یہ معنے صراح وصحاح و قاموس میں موجود ہیں۔قرآن کریم ان معنوں کی تصدیق فرماتا ہے کہ منافق کہتے ہیں۔لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا (المنفقون:۸) اور فرماتا ہے بَخِلُوا (آل عمران : ۱۸۱) اور فرماتا ہے۔يَبْخَلُونَ الحکم جلد ۲ نمبر ۵ ، ۶ مورخه ۲۷ / مارچ و ۱/۶ پریل ۱۸۹۸ء صفحه ۸) (آل عمران:۱۸۱)۔١١ - في قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيمُ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ - ترجمہ۔اُن کے دلوں میں کمزوری ہے اس لئے اللہ نے بھی ان کی کمزوری بڑھا دی اور ان کے لئے ٹیس دینے والا عذاب ہے کیونکہ وہ غلط کہتے ہیں۔تفسیر۔ان کے دلوں میں ایک مرض ہے تو اللہ نے ان کے اس مرض کو بڑھنے دیا اور ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب ہے یہ سبب اس کے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔مرض کا بڑھنا اس لئے فرمایا کہ جب تھوڑے سے مسئلوں میں اس کی کمزوری کا یہ حال ہے کہ کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا تو پھر جب یہ مسئلے بہت بڑھ جائیں گے تو یہ کمزوری اور بھی بڑھے گی۔پس یہ مرض روز افزوں ہے۔اسی طرح جب چھوٹی سی جماعت کے سامنے حق بات نہیں کہہ سکتا تو بڑی جماعت کے سامنے تو اور بھی جھوٹ بولے گا اور یہی باتیں اس کے لئے دُکھ دینے والی ہو جائیں گی۔آخرت کا عذاب تو ہے ہی مگر منافق کے لئے ے اور اُن کو گھٹا ٹوپ اندھیروں میں چھوڑ دیا۔سے اور اللہ ن کو چھوڑ دیتا ہے اپنی سرکشی میں ( ناشر ) تم ان پر نہ خرچ کرو جو رسول اللہ کے یہاں رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ نثر بتر ہوجائیں۔ہے انہوں نے بخل کیا۔۵ بخل کرتے ہیں۔( ناشر )