حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 117
حقائق الفرقان 112 سُوْرَةُ الْبَقَرَة الدُّنْيَا (المؤمن : ۵۲ ) ( ضرور ہم مدد دیتے ہیں اپنے رسولوں کو اور مومنوں کو دنیا میں ) اور فرمایا كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا (البقرة: ٢٦) ( جب کبھی رزق دیا جائے گا ان کو ( مومنوں کو ) اس سے ) منافق لوگ لا إلهَ إِلَّا اللہ کا اظہار کرتے ہیں تا کہ اس کے ذریعہ سے اپنے مال و جان کو حفاظت میں کر لیں۔پس منافق لوگ کشتی کے کناروں کی مانند ہوتے ہیں جب اور جس طرف ہوا چلتی ہے تو اس وقت اور اسی طرف کشتی بھی چل پڑتی ہے اور یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ انفس سے یہاں پر وہی مراد ہو جو کہ لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنتُ بِاَنفُسِهِم خيرا (النور: ۱۳ ) ( کیوں نہ مومنوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ میں اچھا گمان کیا) اور ندع ابناءَنَا وَ ابْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ (آل عمران: ۶۲) ( ہم پکاریں اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنے آپ کو اور تم کو ) میں ہے اور کوئی اور معنے انفس سے یہاں پر نہ لئے جاویں تو اس صورت میں معنے یہ ہوں گے کہ منافق لوگ دعوی کرتے ہیں کہ ہم مومن ہیں اور پھر وہ خود ہی بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں اور مومنوں پر خرچ کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور خدع فساد کو بھی کہتے ہیں تو اس صورت میں معنے یہ ہوں گے کہ وہ نہیں بگاڑتے مگرا اپنی جانوں کو۔اور شعور اس علم کو کہتے ہیں جو کہ بذریعہ حواس یعنی آنکھ ، کان وغیرھما کے (رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۸۔فروری ۱۹۰۷ صفحه ۲۶۰ تا ۲۶۲) حاصل ہو۔(۱) خدعہ کا لفظ ہے۔سورہ بقرہ کے دوسرے رکوع میں موجود ہے۔يُخْدِعُونَ اللهَ۔۔وَ مَا يَخْدَعُونَ (البقره: (۱۰) اور سورہ نساء رکوع ۲۱ میں وَهُوَ خَادِعُهُمُ (النساء : ۱۴۳) اس کا ترجمہ متر جموں نے دھوکہ دیتے ہیں اللہ کو۔اور دھوکہ نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو۔اور اللہ تعالیٰ دھوکہ دیتا ہے ان کو یا بجائے دھوکہ فریب دیتا ہے، دغا دیتا ہے۔وغیرہ وغیرہ۔اللہ تعالیٰ ان نا پاک معنی کی تصدیق قرآن مجید میں نہیں فرماتا۔اس ترجمہ کے معائب یقینا یا غالباً آپ پر ظاہر ہوں گے۔اس لئے مجھے شاید ضرورت نہیں۔اب میں اس کے ایسے معنے عرض کرتا ہوں کہ جن کی تصدیق قرآن کریم میں ہے اور لغت عرب اس کی تصدیق کرتی ہے۔يُخْدِعُونَ اللهَ - يَتْرُكُونَ الله - قاموس میں ہے۔خَادِعُهُ يَتْرُكُهُ۔ترجمہ اس کا چھوڑتے