حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 114 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 114

۱۱۴ حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْبَقَرَة منافق اپنے تئیں بڑا ہو شیار سمجھتا ہے اور اسے یہ خیال ہوتا ہے کہ میں بڑا دا نا ہوں کہ دونوں طرفوں کو گانٹھ رکھا ہے لیکن در حقیقت منافق بڑا کمزور ہوتا ہے اس میں نہ قوت فیصلہ ہوتی ہے نہ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ فروری ۱۹۰۹ء صفحه ۴) تاب مقابلہ۔سچی اخلاص اور محبت اور اطاعت سے جو نتائج پیدا ہوتے ہیں وہ صرف زبانی باتوں اور ریا کاری کے اعمال سے حاصل نہیں ہو سکتے۔اگر صرف زبانی قول پر نجات کا مدار ہوتا تو پھر قول تو منافقوں کا بھی اللہ تعالیٰ نے نقل کر کے دکھایا ہے بلکہ وہ ایسے قول سے بجائے نجات کے عذاب کے حقدار بن گئے۔ایک ہی قول ہے کہ ایک ایسے شخص کے زبان سے نکلتا ہے جس کا دل اور زبان ایک ہے نیت میں اخلاص ہے۔اسی قول سے وہ واصل الی اللہ اور باری تعالیٰ کا مقرب ہوتا ہے۔وہی ایک قول ہے جو کہ ایسے شخص کی زبان سے نکلتا ہے جس کا قلب اور زبان ایک نہیں ہے۔وہ خدا تعالیٰ سے بعد اور قطع تعلق کا باعث ہوتا ہے۔خدا اور یوم آخر پر ایمان کا اصل نتیجہ کیا تھا کہ خدا سے تعلقات بڑھتے اور اس کے انعامات اور اکرام کا مور د وہ ہوتا مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافقوں نے اس کا الٹا پھل پایا یعنی ترقی معکوس۔کہ بجائے قریب ہونے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اور دُور ہوتے گئے اور ان کے نفسوں کو دھوکا لگا۔يُخْدِعُونَ کے معنے يَتْرُكُونَ یعنی چھوڑتے ہیں اور يَخْدَعُونَ کے معنے محروم کر لیتے ہیں۔عام تر جموں میں جو اس کے معنے فریب اور دھوکہ دینے کے کئے جاتے ہیں ان کی تصدیق قرآن کی کسی آیت سے نہیں ہوتی ہے بلکہ قاموس وغیرہ لغت کی کتب میں خَادِعَہ کے معنے ترگه کے لکھے ہیں۔قرآن سے بھی ان معانی کی تصدیق ہوتی ہے جیسے سورۃ نساء میں ہے۔إِنَّ الْمُنْفِقِينَ يُخْدِعُونَ اللهَ وَهُوَ خَادِعُهُمُ (النساء : ۱۴۳ ) یعنی منافق خدا تعالیٰ کو چھوڑتے ہیں اور خدا ان کو چھوڑتا ہے۔خدا کو چھوڑ دینے کے یہ معنے ہیں کہ اس کے اوامر اور نواہی کی پرواہ نہ کرنی۔بعض وقت ایک انسان مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے اور اس وقت شکایت کرتا ہے کہ خدا اس کی مدد کیوں نہیں کرتا؟ اس کا