حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 115
حقائق الفرقان ۱۱۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة باعث یہی ہوتا ہے کہ اس نے اپنے تعلقات خدا سے قائم نہیں رکھے ہوئے ہوتے اور اسی وجہ سے خدا نے اس کی حفاظت سے اپنا ہاتھ اُٹھایا ہو اہوتا ہے جیسے کہ آجکل طاعون اس نظارہ کو دکھا رہی ہے۔وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ - خَدَعَ کے معنے اَمْسَكَ کے ہیں یعنی یہ لوگ نہیں روک سکتے فوائد سے یا نہیں بخل کرتے یا نہیں محروم رکھتے مگر اپنی جانوں کو۔جب اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں سے قطع تعلق کر لیا تو تعلق سے جو فوائد حاصل ہونے تھے اُن سے وہ محروم ہو گئے۔محرومی نفاق کا نتیجہ ہے۔وَمَا يَشْعُرُونَ۔ان میں شعور نہیں۔شعور ایک حیوانی صفت ہے۔اللہ تعالی۔۔۔یہاں منافقوں کو شرم دلاتا ہے کہ تم تو حیوانات سے بھی گئے گزرے ہوئے ، ان میں شعور ہوتا ہے تم اس سے بھی محروم ہو۔ہمیشہ اس امر کا خیال رکھو کہ کلمہ جو منہ سے نکالتے ہو اس کا تعلق دل اور زبان دونوں سے ہو اور تمہارا ہر ایک عمل اس کی تصدیق کرتا ہو۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۱۱) خادع کے معنے ترک کے ہیں پس جہاں يُخْدِعُونَ الله ہے وہاں ” وہ چھوڑتے ہیں اللہ کو ترجمہ کیوں نہیں کرتے۔خَدَعَ کے معنے ہیں اَمْسَگ۔اور عرب کا محاورہ ہے فُلان كَانَ يُعْطى فَخَدَعَ فُلانا دیتا تھا اب اُس نے دینا چھوڑ دیا۔پس وَهُوَ خَادِعُهُمُ (النساء : ۱۴۳) کے معنے یہ کیوں نہیں کرتے کہ اللہ ان منافقوں کو محروم رکھنے والا ہے۔اسی طرح تمام الاشباہ والنظائر میں ایسا ہی برتاؤ کرو اور مثلاً وَوَجَدَكَ ضَالاً (الضحی : ۸) میں ضلال کا اثبات نبی کریم کے لئے ہے مگر ما ضَلَّ صَاحِبُكُم (النجم:۳) میں ضلال کی نفی بھی آپ کے حق میں موجود ہے۔تو دونوں پر ایمان لا کر ایک جگہ ضلال کے معنے محب ، طالب ، سائل کے کرو جو اما السّابِلَ فَلَا تَنْهرُ (الضحی (۱) کی ترتیب سے ظاہر ہوتے ہیں اور دوسری جگہ گمراہ کے معنے لو جو ماغوی کے مناسبت سے درست ہیں۔( نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن - صفحہ ۱۲، ۱۳) يُخْدِعُونَ ، مُنَادِعَةُ سے ہے اور مُخادِعَہ کے معنے ہیں ترک کے۔پس يُخْدِعُونَ اللهَ لے نہ بہکا تمہارا صاحب کے اور سائل کو نہ جھڑ کنا۔( ناشر )