حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 107 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 107

حقائق الفرقان 1+2 سُوْرَةُ الْبَقَرَة ہیں اُن سے جب ان کے تقاضا کے موافق حسب فرمودہ الہی وہ کام نہیں لیا جا تا تو ان کی قوت زائل ہو جاتی ہے اور جو قوت ان کی بالضد بالمقابل ہوتی ہے وہ ترقی پاتی ہے اور بہت نشو و نما کرتی ہے۔یہ ایک ایسا بندھا ہوا قانون ہے کہ جس کے مشاہدہ کثرت سے اس عالم میں ہیں۔تم نے دیکھا ہوگا کہ بعض ہند وفقیروں کے ہاتھ سوکھے ہوئے اور کھڑے ہوئے ہوتے ہیں اس کی یہی وجہ ہوتی ہے کہ وہ ہاتھوں کو ایک عرصہ تک کھڑا کر چھوڑتے ہیں اور قدرت کے منشاء کے موافق ان سے کام نہیں لیتے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کام کرنے کی طاقت ہاتھ سے زائل ہو جاتی ہے۔اسی طرح اگر آنکھ کوتم چالیس دن تک ایسی پٹی باندھ چھوڑو کہ اُس سے کچھ نظر نہ آوے تو آخر کار پھر اس سے قوت بینائی کم ہو جاوے گی۔اسی طرح سے جو لوگ نیکی کی قوتوں سے کام نہیں لیتے آخر کار وہ دن بدن کمزور ہو کر زائل ہو جاتی ہیں اور ان کے مقابل پر بدی کی قوت ترقی پکڑتی پکڑتی آخر کار ایک حجز وطبیعت ہو جاتی ہے۔پس جو لوگ بدکاریوں میں مبتلا ہیں ان کا علاج یہی ہے کہ وہ ان کو دن بدن دبانا شروع کریں اور نفس کی مخالفت پر زور دیویں اور ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ سے بھی مدد مانگتے رہیں آخر کار وہ ایک دن اُن سے نجات پا جاویں گے کیونکہ جیسے ہم نے پیشتر بیان کیا ہے خدا کا لا تبدیل قانون یہی ہے کہ ہر انسانی فعل کے بعد ایک فعل الہی صادر ہوتا ہے۔انسان اگر نیکی کے قومی سے کام لیتا ہے تو خدا تعالیٰ دن بدن اسے اور برکت دیتا ہے حتی کہ نیکی اس کی طبیعت کا جزو ہو جاتی ہے۔شکر نعمت پر ازدیاد نعمت کی یہی فلاسفی ہے اور جولوگ خدا تعالیٰ کے دیئے ہوئے قومی سے ٹھیک کام نہیں لیتے وہ دن بدن بدیوں پر دلیر ہو کر خدا کا غضب حاصل کرتے ہیں یعنی وہ خدا کی نعمت کا کفر کرتے ہیں اسی لئے عذاب کے مستحق ہوتے ہیں۔پس اس تفصیل سے خوب ظاہر ہو گیا ہے کہ ختم اللہ میں کسی قسم کا جبر انسان کے اوپر نہیں ہے کیونکہ ختم اللہ تو ایک فعل الہی ہے جو کہ انسانی فعل کے بعد حسب قانونِ قدرت ضروری صادر ہونا تھا۔خدا تعالیٰ نے ہدایت کے سامان ان کے لئے مہیا کئے مگر انہوں نے اُن سے کام نہ لیا اس لئے جو قومی ترقی ایمان کے ان کو عطا ہوئے تھے وہ ان سے لے لئے گئے اور حکمت بالغہ کا یہی نتیجہ ہونا