حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 108
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْبَقَرَة چاہیے تھا۔دیکھو اگر آج تم میں سے ایک کو تحصیلداری کے اختیارات دیئے جاویں لیکن وہ ان کو استعمال نہ کرے اور تمام دن اور ہی کام کرتا رہے تو کیا گورنمنٹ وہ اختیارات اس کے پاس رہنے دیوے گی ؟ ہر گز نہیں۔پس جبکہ دنیاوی مصلحت اور حکمت اس امر کا تقاضا نہیں کرتی تو خدا تعالیٰ پر کیوں یہ امر لازم ہوسکتا تھا؟ ختم۔اس کے معنے نشان کے ہیں۔دوسرے مہر کے۔اول معنوں کی رُو سے یہ معنے ہوئے کہ اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر نشان یا علامت کر دی تا کہ فرشتہ یا فرشتوں کے رنگ کی انسانی مخلوق ان کو پہچان کر ان سے مناسب حال سلوک کرے۔اہل فراست ان کو پہچان کران سے پر ہیز کریں۔دوسرے معنوں کی رُو سے یہ معنے ہوئے کہ جب کسی شئے پر مہر لگ جاتی ہے اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ کوئی شئے اس کے اندر اب نہ داخل ہو سکتی ہے نہ باہر آ سکتی ہے یعنی اب ان کے دل ، کان اور آنکھ کسی حقیقت تک پہنچنے سے محروم کر دیئے گئے ہیں۔نہ حق داخل ہوسکتا ہے نہ کفر نکل سکتا ہے۔قُلُوب جمع قلب کی بمعنے دل۔اس سے مراد گوشت کا وہ ٹکڑا نہیں ہے جو آنکھوں سے نظر آتا ہے وہ تو ایک گدھے میں بھی ہوتا ہے بلکہ قوت اورا کیہ جس کا ایک مجہول الکنہ تعلق اس انسانی قلب کے ٹکڑے سے ہے۔قلب پر ختم کا یہ باعث ہو ا کہ ان کو قلب الہی اس لئے دیا گیا تھا کہ وہ سوچتے کہ شخص ( محمد صلم ) مدت سے ہم میں رہتا ہے۔اس کے اخلاق ، عادات، تعلقات، معاملات، لین دین وغیرہ سب امور پر نظر مارتے ، اس کی گذشتہ زندگی کو جانچتے ، اس کی خلوت ،جلوت کے حالات کا مطالعہ کرتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی کیا اور فرمایا قَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمْرًا مِّنْ قَبْلِهِ اَفَلَا تَعْقِلُونَ (یونس : ۱۷)۔اس دعویٰ اور تحدی پر غور کرتے جب اس نے قلب سے قلب کا کام نہ لیا اور اس کو معطل رکھا تو آخر اللہ تعالیٰ نے وہ نو را ایمان ان سے لے لیا۔سمع۔بمعنے کان اور سننا۔اس پر ختم کا یہ باعث ہو ا کہ اگر اس کا قلب اس قابل نہ تھا تو پھر لے بے شک میں رہ چکا ہوں بڑی عمر اس سے پہلے تم میں تو کیا تم کو کچھ بھی عقل نہیں ہے۔( ناشر )