حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 104
حقائق الفرقان ۱۰۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة طرف اشارہ کرتا ہے ورنہ شریعت اور قانون کی کوئی ضرورت نہ تھی۔اس سے ہم کو پتہ لگتا ہے کہ انسان کی جواب دہی اس حال میں ہے جب کہ وہ اپنے مولیٰ کریم کی طرف سے نتائج اعمال سے آگاہ کیا گیا ہے۔یہ آگاہی اُسے بارگاہ ایزدی میں جواب دہ بناتی ہے۔اگر یہ بات نہ ہوتی تو پھر آسمانی کتابوں کا نازل کرنا، انبیاء اور ان کے خلفاء کو مبعوث کرنا خدا کا ایک بے شود فعل ہوتا۔جیسے آنکھ اپنا کام کرتی ہے اور وہ کان کا کام نہیں دے سکتی اسی طرح انسان فرشتوں کی طرح بنایا جاتا مگر اس طرح کی بناوٹ سے وہ کسی ثواب اور اجر کا مستحق نہ ہو سکتا تھا کیونکہ ثواب اور انعامات وغیرہ کا انسان اُسی وقت مستحق ہوتا ہے جب وہ کوئی امر خلاف طبع کر کے دکھاتا ہے۔ایک پیشہ ور اگر اپنی خواہشِ طبعی کے موافق گھر بیٹھا ر ہے اور اپنے نفس کے خلاف کوئی تکلیف حرکت کرنے کی اپنے اعضاء سے کام لینے کی گوارانہ کرے تو وہ کب کچھ حاصل کر سکتا ہے؟ انسان کا نفس تو آرام کو چاہتا ہے مگر جب تک وہ اس آرام کو چھوڑ کر کچھ تکلیف خلاف نفس گوارا نہ کرے وہ کچھ حاصل نہیں کر سکتا۔اسی طرح خادم اپنے آقا کو، ملازم اپنے افسر کو خوش نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ کچھ اپنے خلاف نفس نہیں کرتا۔یہ شب و روز کا نظارہ اس امر کو خوب ظاہر کرتا ہے کہ انسان کے اندر نتائج اعمال کا علم ہے جس سے وہ ترقی مراتب کی کوشش کرتا رہتا ہے۔پس جن راہوں پر وہ چل کر انعام اور ترقی حاصل کرتا ہے ضرور ہے کہ جب ان کو ترک کرے تو نقصان بھی اٹھاوے۔بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ بعض انسانی قوی کی ساخت ہی اس قسم کی واقع ہوئی ہے کہ اس قسم کے اعضاء والوں سے وہ حرکات ہی ناشائستہ سرزد ہوں مثلاً ڈاکو، چور وغیرہ جو ہوتے ہیں دیکھا جاتا ہے کہ ان کی کھو پریوں کی ساخت ایک خاص قسم کی ہوتی ہے جو دوسرے لوگوں سے بالکل علیحدہ اور متمیز ہوتی ہے پھر جس حال میں کہ قدرت نے ان کی ساخت ہی ایسی بنائی ہے وہ کس طرح جواب دہ ہونے چاہئیں؟ اس کا جواب یہ کہ اس سوال کا تعلق علم قیافہ سے ہے جو ایک مومن کا کام ہے۔حدیث شریف میں ہے اِتَّقُوْا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللہ کہ تم مومن کی فراست سے