حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 100
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْبَقَرَة سَوَاءُ عَلَيْهِمْ وَانْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرُهُمْ ( برابر ہورہا ہے ان کے نزدیک خواہ ڈرایا تو نے یا نہ ڈرایا تو نے ) یعنی تیرے ڈرانے کی کچھ پرواہ نہیں کرتے۔یہ دوسر افعل کا فرانسان کا ہے کہ اس نے اپنی عقل و فکر سے اتنا کام بھی نہیں لیا۔اگر اس میں یہ خوبی نہ تھی کہ ایمان کے لئے خود فکر کرتا، سوچتا، عقل سے اپنا کام لیتا تو کم سے کم رسول کریم کے بیانات کو ہی سنتا کہ کفر کا نتیجہ کیسا برا اور اس کفر کا انجام کیسا برا ہے؟ لا يُؤْمِنُونَ نہیں مانتے۔یہ تیسر آ فعل کا فرانسان کا ہے۔اوّل تو ضرور تھا کہ قلب سے کام لیتا جو روحانی قوت کا مرکز ہے۔اگر اس موقع کو ضائع کر چکا تھا تو مناسب یہ تھا کہ نبی کریم کی باتیں سنتا۔پس کان ہی اس کے لئے ذریعہ ہو جاتے کہ ایمان دار بن جاتا اور یہ دوسرا موقع حصول ایمان کا تھا۔پھر اگر یہ بھی کھو بیٹھا تو مناسب تھا کہ پکے ایمان داروں کے چال چلن کو دیکھتا جو ایسے موقع پر اُسی کے شہر میں موجود تھے اور یہ بات اس کا فر کو آنکھ سے حاصل ہو سکتی تھی مگر اس نے یہ تیسرا موقع بھی ضائع کر دیا۔غور کرو ! اگر کوئی دانا حاکم کسی کو مختلف عہدے سپر د کرے لا کن وہ عہدہ دار کہیں بھی اپنی طاقت سے کام نہ لے تو کیا حاکم کو مناسب نہیں کہ ایسے سکتے شخص کو عہدہ سے اُس وقت تک معزول کر دے جب تک وہ خاص تبدیلی نہ کرے۔اب اسی ترتیب سے دوسری آیت پر غور کرو۔خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ۔مُہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پر۔اس لئے کہ انہوں نے پہلے دل کا ستیا ناس خود کیا اور کفر کیا۔وَ عَلَى سَبْعِهِمْ۔اور ان کے کانوں پر۔یہ دوسری سزا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے کانوں سے کام نہ لیا۔وَ عَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ۔یہ تیسری سزا ہے کہ اُن کے آنکھوں پر پٹی ہے کیونکہ انہوں نے آنکھ سے بھی کام نہ لیا۔ظاہری مثال آپ نے قرآن کریم کے فہم میں دل سے اب تک کچھ کام نہ لیا اور یہ بات مجھے تمہارے