حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 97
حقائق الفرقان ۹۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اوّل معصیت کا جو اس نے بدنظری کے ارتکاب میں کی۔اسی طرح جو لوگ بدصحبتوں اور بد مجلسوں میں جاتے ہیں صرف وہاں جانا ایک خفیف سا فعل نظر آتا ہے مگر اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ انہیں بدصحبتوں سے چور، ڈاکو، فاسق ، فاجر ، ظالم وغیرہ بن جاتے ہیں اور پھر ان باتوں کے ایسے خُوگر ہو جاتے ہیں کہ اگر کوئی خود بھی ان میں سے چھوڑنا چاہے تو مشکل سے چھوڑ سکتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک قانون یہ ہے کہ جب انسان ایک فعل کرے تو اس پر دوسرا فعلِ الہی بطور نتیجہ کے وارد ہوتا ہے جس طرح جب ہم ایک کوٹھڑی کے دروازے بند کرتے ہیں تو ہمارے اس فعل پر دوسرا فعلِ الہی یہ ہوتا ہے کہ وہاں اندھیرا ہو جاتا ہے اسی طرح سے انسان سے جو اعمال ایمان اور کفر کے لحاظ سے صادر ہوتے ہیں ان پر ایک فعل النبی یا قبر خداوندی۔۔۔۔۔بھی صادر ہوتا ہے جس کا ذکر اس اگلی آیت میں ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخه ۲۰ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۳۹) چونکہ وہ لوگ اول انکار کر چکے تھے اس لئے سخن پروری کے خیال نے ان کو رسول اللہ صلحم کی مجلسوں میں بیٹھنے اور آپ کی باتوں پر غور کرنے نہ دیا اور انہوں نے آپ کے انذار اور عدم انذار کو برابر جانا۔اس کا نتیجہ کیا ہوا۔لَا يُؤْمِنُونَ یعنی ہمیشہ کے لئے ایمان جیسی راحت اور سرور بخش نعمت سے محروم ہو گئے۔یہ ایک خطر ناک مرض ہے کہ بعض لوگ مامورین کے انذار اور عدم انذار کی پرواہ نہیں کرتے۔ان کو اپنے علم پر ناز اور تکبر ہوتا ہے اور کہتے ہیں کہ کتاب الہی ہمارے پاس بھی موجود ہے ہم کو بھی نیکی بدی کا علم ہے یہ کونسی نئی بات بتانے آیا ہے کہ ہم اس پر ایمان لاویں؟ ان کم بختوں کو یہ خیال نہیں آتا کہ یہود کے پاس تو تو رات موجود تھی اس پر وہ عمل درآمد بھی رکھتے تھے۔پھر ان میں بڑے بڑے عالم، زاہد اور عابد موجود تھے پھر وہ کیوں مردود ہو گئے؟ اس کا باعث یہی تھا کہ تکبر کرتے تھے ، اپنے علم پر نازاں تھے اور وہ اطاعت جو کہ خدا تعالیٰ اسلم کے لفظ سے چاہتا ہے ان میں نہ تھی۔ابراہیم کی طرز اطاعت ترک کر دی۔یہی بات تھی کہ جس نے ان کو مسیح علیہ السلام اور اس رحمتہ للعالمین نبی کریم صلعم کے ماننے سے جس سے تو حید کا چشمہ جاری ہے ماننے سے باز رکھا۔الحکم جلد 9 نمبر ۷ مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۵ء صفحه ۷)