حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 96 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 96

حقائق الفرقان ۹۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة کولوگ بیہودہ اور لغو جان کر اس کے وجود کی ضرورت کو محسوس نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ اگر تُو مبعوث ہوتا تو کیا اور نہ مبعوث ہوتا تو کیا۔اس کی بعثت سے پہلی حالت جو ان لوگوں کی ہوتی ہے بعثت کے وقت اس میں کچھ تغیر نہیں کرتے اس لئے خدا تعالیٰ ان کو ایمان لانے کی توفیق بھی عطا نہیں کرتا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے بطور نتیجہ کے آگے بیان کیا ہے کہ لا يُؤْمِنُونَ یہ لوگ ایمان نہ لاویں گے کیونکہ ایمان تو مان لینے کا نام ہے۔مگر جب انہوں نے ایک شخص کے وجود اور عدم وجود کو ہی برابر جانا تو ایمان لانا کیسا ؟ ایمان تو بعد شنید اور بعد ارادہ اتباع کے ہوتا ہے۔خوب یاد رکھو! کہ اِس آیت میں دو اسباب بیان کئے ہیں جن کا نتیجہ ہو ا کرتا ہے کہ ایک صادق کے ماننے کی توفیق نہیں ملا کرتی۔ایک تو انکار دوسرے اس کے وجود اور عدم وجود یا انذار اور عدم انذار کو برا بر جاننا۔اب بھی جو لوگ منکر ہیں اور پھر اپنے انکار پر چلے آتے ہیں اس کا باعث یہی ہے۔بعضوں کا انہماک تو دنیاوی اشغال کی طرف اس قدر ہے کہ ان کو خبر ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو کیوں پیدا کرتا ہے؟ اگر کسی سے نام سن بھی لیا تو پھر اس امر کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ تحقیق و تفتیش کر کے اس کا جھوٹا یا سچا ہونا تو دیکھ لیں۔اس قسم کے لوگ دولت ایمان سے محروم رہتے ہیں۔نتائج عمل یہ دنیا جائے اسباب ہے اور ہم رات دن مشاہدہ کرتے ہیں کہ جیسے ایک نیک عمل کے بجالانے سے دوسرے نیک عمل کی توفیق ملتی ہے اسی طرح ایک بدی کرنے سے دوسری بدی کرنے کی جرات بھی پیدا ہوتی ہے۔مثلاً دیکھو انسان جب اوّل بد نظری کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دوبارہ اس حسن و ادا کو دیکھتا ہے پھر کوئی خط و خال پسند آیا اور محبت نے غلبہ کیا تو آہستہ آہستہ اس کے گوچہ اور گلی میں جانے کا شوق پیدا ہوتا ہے جس پر اس نے بد نظری کی تھی اور اگر ملاقات کا اتفاق ہو ا تو ہاتھ ، زبان، آنکھ اور خدا معلوم کن کن اعضاء سے وہ معصیت میں مبتلا ہوتا ہے یہ نتیجہ کس بات کا تھا؟ اس