حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 95
حقائق الفرقان ۹۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ایمان نہ لانے کی وجہ یہ بتلائی ہے کہ انہوں نے ایمان بالغیب سے کام نہ لیا اور کفر کیا اور آخرت یعنی نتائج اعمال پر جو یقین چاہیے تھا اس کے نہ ہونے سے ایک مامور کے ڈرانے اور نہ ڈرانے کو برابر جانا یعنی اس کی ضرورت نہ سمجھی۔نتیجہ اس سے یہ نکلا کہ جب خدا تعالی کی کسی نعمت کی قدر نہیں کی جاتی اور ایک شئے کے ہونے اور نہ ہونے کو یکساں سمجھا جاتا ہے تو وہ ایمان جس پر بڑے بڑے علومِ حقہ کا مدار ہوتا ہے اُسے نصیب نہیں ہوتا جیسے کہ اس سے پیشتر کسی حصہ درس قرآن میں ذکر ہوا ہے کہ اگر ایک شخص اُستاد کے بتلانے پر الف کو الف اور ب کو ب نہ مانے تو پھر وہ تحصیل علوم سے محروم رہے گا اسی طرح جب ایک شخص عربی یا انگریزی زبان کے سیکھنے اور نہ سیکھنے کو برابر خیال کرے تو وہ ان دونوں زبانوں سے کیا فائدہ حاصل کرے گا ؟ کچھ بھی نہیں۔اسی طرح سے جو لوگ خدا کے ماموروں پر ایمان نہیں لاتے اور ان کی ہداتیوں پر عمل درآمد نہیں کرتے وہ دولت ایمان سے تہی دست رہتے ہیں۔ایمان اُس وقت نصیب ہوتا ہے جبکہ انذار کو ترجیح دیوے اور یہ بھی انسان کا اختیاری امر ہے کیونکہ ایمان لانے اور کفر کرنے میں خدا نے کسی کو مجبور نہیں کیا بلکہ فرما یا اِنَّا هَدَيْنَهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِراً وَ إِمَا كَفُورًا (الدھر: ۴) یعنی ہم نے اسے راستہ دکھا دیا ہے اب وہ خواہ شاکر ہو خواہ کافر۔بلکہ ایک اور جگہ فرماتا ہے وَ لَوْ شَاءَ اللهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدى (الانعام: ۳۶) یعنی خدا نے اگر جبر کرنا ہوتا تو ہدایت کے واسطے کرتا کہ سب کے سب مومن ہو جاتے۔البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخه ۱۳ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۰) غرض جب خدا نے مخلوق کو پیدا کیا اور اس پر اپنا کمال رحم کیا کہ اس کے فائدے کی اشیاء اس کے لئے بنا ئیں جس سے اس کے وجود کا قیام اور دفعیہ حوائج ہوتا رہتا ہے۔تو جس حالت میں اس نے ہدایت کے واسطے مجبور نہ کیا تو کفر اور ضلالت کے واسطے کیوں مجبور کرتا اور نیک اعمال کی بجا آوری پر رضامندی اور بداعمالی پر نارضامندی کا کیوں اظہار کرتا؟ سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ۔قبل ازیں یہ بات تھی کہ ایک صادق صداقت لے کر آیا اور اس کا ان لوگوں نے کفر یعنی انکار کیا۔اب دوسری بات یہ کی کہ اس انکار کے بدنتائج جو ایک صادق آ کر بیان کرتا ہے ان