حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 94
حقائق الفرقان ۹۴ سُورَةُ الْبَقَرَة کافر تیرے انذار و عدم انذار کو مساوی سمجھتے ہیں۔ جب کسی کی نصیحت کا عدم وجود برابر سمجھ لیا گیا تو پھر کچھ پرواہ نہ رہی ۔ اس ناعاقبت اندیشی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایمان ز ہ ہوتا ہے کہ ایمان نصیب نہیں ہوتا۔ تین مرضیں ہیں ۔ سب سے پہلے تو وہ جو بات کو سنتا ہی نہیں ۔ پہلے ہی سے انکار کر دیا (۲) دوسرا وہ جس نے سنا مگر اس کا سننا نہ سننے کے برابر ہے (۳) تیسرا وہ جو نگاہ سے کام نہیں لیتا کہ نہ ماننے والوں کا کیا حشر ہو رہا ہے کوئی بات ہو اس کو غور سے سن لینا پھر فکر کرنا بہتر ہے کہ یہ میرے لئے برکت کا موجب ہے یا نقصان کا ۔ پھر دیکھے کہ اس کے ماننے والے آرام میں ہیں یا نہیں اور اس کے نہ ماننے والوں کا انجام کیا ہو رہا ہے؟ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ فروری ۱۹۰۹ ء صفحه (۳) گے بیشک وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا اور تیرے انذار اور عدم انذار کو برابر جانا وہ مومن نہ بنیں ۔ كَفَرُوا یعنی اپنے اختیار سے کفر کیا۔ کفر کے معنے انکار حق کو چھپانا، ڈھانک دینا۔ اور یہ سب باتیں انسانی اختیار میں ہیں ۔ جس طرح سے ادویات میں خواص اور تاثیرات ہیں کہ جو ان کو استعمال کرتا ہے وہ ان سے ضرور مؤثر ہوتا ہے اسی طرح سے انسانی اعمال کی بھی تاثیرات ہیں کہ اس کا ہر ایک عمل اس کی روح پر ایک اثر کرتا ہے اور وہ اثر اس کی ایمانی حالت میں ایک کیفیت پیدا کرتا ہے اور جس طرح سے کہ ایک طبیب اغذیہ اور ادویہ کے خواص سے واقف انسانوں کو مفید اور مضر اشیاء کا علم بتلاتا ہے اور جو اس کی بتلائی ہوئی بات پر یقین کر کے عمل کرتے ہیں وہ سکھ اور امن سے رہتے ہیں اور جو نہیں عمل کرتے بلکہ اس کے علم کو غیر ضروری خیال کر کے اپنی ضد اور ہٹ پر رہتے ہیں وہ دکھ بھگتے ہیں اسی طرح انبیاء کو انسانی اعمال اور افعال اور اقوال کے خواص کا علم ہوتا ہے وہ ایسے وقت میں آتے ہیں جبکہ انسان بستر بیماری پر ہوتے ہیں یعنی ایک معالج کے حکم میں ان کے پاس آتے ہیں جو لوگ اس کی باتوں کا انکار کرتے ہیں اور جن مضر باتوں سے وہ روکتا ہے اُس سے نہیں رکھتے بلکہ اس کی ضرورت کو ہی محسوس نہیں کرتے وہ ضرور دکھ پاتے ہیں۔ یہی بلا اب اس زمانہ میں بھی لوگوں کو لاحق حال ہے کہ ایک نذیر کے وجود اور عدم وجود کو برا بر خیال کر رہے ہیں۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے