حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 91
حقائق الفرقان ۹۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة بِالْآخِرَةِ کے ساتھ مَا اُنْزِل کا کلمہ استعمال نہیں کیا ہے کیونکہ آئندہ مکالمہ الہی کا جس قدر سلسلہ ہو گا وہ آنحضرت صلعم کے طفیل ہو گا اور مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ سے اس کا وجود الگ نہ ہوگا اور چونکہ اس کے ذریعہ سے مَا اُنْزِلَ إِلَيْكَ پر ایک کامل یقین حاصل ہوتا جاوے گا اِس لئے اخرة کے ساتھ يُوقِنُونَ کا لفظ رکھا ہے۔اس کا اطلاق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خود آنحضرت صلعم کی ذات پر اس طرح ہوا کہ اس سورت کے بعد اور بھی حصہ قرآن کریم کا آپ پر نازل ہوا اور صحابہ اس كو۔مان کر گویا اس آیت پر عامل ہو گئے۔اخرة۔اس کے معنے پیچھے آنے والی بات کے کئے ہیں۔کلام الہی پر گفتگو کرتے ہوئے دکھایا ہے کہ آئندہ مکالمہ الہیہ کی طرف اشارہ ہے۔اب اعمال کے لحاظ سے دیکھا جاوے تو ہر ایک عمل کے بعد جو ایک نتیجہ اس کا ہے اس پر یقین کا ہونا ضروری ہے کیونکہ جب تک انسان کے دل میں یقینی طور پر یہ بات نہ بیٹھ جاوے کہ میرا ہر ایک عمل خواہ اس کا تعلق صرف قلب سے ہے یا اس میں اعضاء بھی شامل ہیں ضرور ایک نتیجہ نیک یا بد پیدا کرے گا اور میری اس عملی تخمریزی پر شمرات مرتب ہوں گے تب تک گناہ سے رہائی ہرگز ممکن ہی نہیں ہے اور بجز اس علاج کے اور کوئی علاج گناہ کا نہیں۔دیکھو البدر جلد 1 صفحہ ۶۹) جب کوئی آگ کو جلانے والی جانتا ہے تو اس میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔بچہ اسی وقت تک انگار کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے جب تک اس کے دل میں یہ نہیں بیٹھا ہوا ہوتا کہ یہ جلا دیوے گی لیکن جب یہ علم اُسے ہو جاتا ہے تو پھر ہر گز ہاتھ نہیں بڑھاتا۔غرضیکہ گناہ کا صدور اس وقت تک ہے جب تک یقینی علم گناہ کے بدنتائج پر نہیں ہے۔جس قدر حرام خور یاں اور فسق و فجور ہوتے ہیں اگر انسان ایک قلب سلیم لے کر اپنے اپنے محلہ میں یا تعارف میں ایسے بدکاروں کے آخرت یعنی نتائج دیکھے تو اسے پتہ لگے گا کہ یہ آخرت کا مسئلہ بالکل ٹھیک ہے۔غفلت اور گناہ ایک ایسی شئے ہے کہ ہلا اثر کئے کے ہر گز نہیں رہ سکتا۔مثلاً اگر غلطی سے ہی کا نٹا لگ جاوے تو کیا اس کا دُکھ نہ ہوگا یا زہر کھالی جاوے تو کیا ہلاکت کا باعث نہ ہوگی؟ اسی لئے