حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 90 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 90

حقائق الفرقان ۹۰ سُورَةُ الْبَقَرَة انکار کرتے ہیں اور خدا کو گونگامان بیٹھے ہیں (۲) وہ جن کا یہ اعتقاد ہے کہ ازمنہ گزشتہ میں خدا ایک حد تک بول چکا مگر آئندہ وہ لوگوں سے یا کسی سے بولتا نہیں (۳) جن کا یہ اعتقاد ہے کہ خدا تعالیٰ ہر زمانہ میں کلام کرتا ہے۔ تیسری قسم کے لوگ ہی ہمیشہ بامراد اور کامیاب ہوتے رہے ہیں اور ہر ایک مومن کی یہی صفت ہونی چاہیے اور یہی اعتقاد ہے جو کہ اعلیٰ اعلیٰ مراتب اور درجات حاصل کرواتا ہے ۔ اس کے مخالف جس قدر عقیدہ ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو ایک کامل ہستی نہیں مانتے بلکہ ان کا اللہ ناقص خدا ہے۔ ان کا مذہب ناقص مذہب ہے۔ یہ شرف سچے اور زندہ مذہب ہونے کا صرف اسلام اسلام ہی ہی کو ! حاصل ہے اور چونکہ متکلم ازل سے ایک ہی ذات پاک ہے اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اصولاً ہر ایک زمانہ کے الہام کی تعلیم ایک ہی ہو اور ہر زمانہ کے الہامات ایک دوسرے کے مؤید اور مصدق ہوں ۔ مکالمہ البہی کے ذکر کا اس مقام پر یہ فائدہ بھی ہے کہ انسان کو حرص پیدا ہوتی رہے کہ خدا مجھ سے بھی کلام کرے اور اپنے اعمال کو سنوار کر ادا کرے جیسے ایک شخص کو سخی دیکھ کر اس کے پاس سوالی جمع ہو جاتے ہیں کہ ان کو بھی ملے اور جن اعمال سے یہ شرف مکالمہ کا حاصل ہو سکتا ہے ان کو اول بیان فرمادیا ہے کہ وہ سب اعمال ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ کے مطابق ہوں ۔ کلام النبی کے نزول اور اس کی ضرورت پر ہمیں ریمارک دینے کی ضرورت نہیں ہے براہینِ احمدیہ سے اس کا عقدہ پورے طور پر حل ہوتا ہے ۔ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ لَو مَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ پر اس لئے مقدم رکھا ہے کہ سب سے مقدم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے یعنی وہ مَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ جس کو ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ تصدیق کرتا ہے یہ نہیں کہ جو رطب و یابس اور ترجمه در ترجمه در ترجمہ پادریوں وغیرہ کے اپنے خیالات صحفِ سابقہ میں ملے ہوئے ہیں ان کو بھی مَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ میں شمار کر لیا جاوے بلکہ سابقہ اور آئندہ سب کا معیار ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ ہے اور اسی لئے بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ سے بھی یہ مقدم ہے۔