حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 96 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 96

ہی لو کہ میں مُنْعَمْ عَلَیْھِمْ کا ذکر ہے میںمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمکا اور میں ضالّین کا۔یہ ابتداء کا حال ہے اب یہاں قرآن ختم ہوتا ہے وہاں سورۃ نصر میں مُنْعَمْ عَلَیْھِمْ کا بیان ہے اور میں مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ کا اور ۔۔میںضالون کی تردید ہے اِس واسطے ہم کو چاہیئے کہ بہت فکر کریں اور اپنا آپ محاسبہ کریں اپنے اعمال کو دیکھیں کہ ہم کِس فریق کے کام کر رہے ہیں آیامُنْعَمْ عَلَیْھِمکے یا مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ کے یاضَالِّیْن کے… تم اِن تین گروہوں کے اَوصاف پر غور کرو مُنْعَمْ عَلَیْھِمگروہ کے لئے سب سے پہلی صِفت بیان کرتا ہوں کہِ ایمان بالغیب ایسا ضروری ہے کہ دُنیا کا کوئی کام اِس کے بغیر نہیں ہوتا۔پہاڑے، مساحت، اقلیدس، طبعیات سب کے لئے فرضی بنیاد پر کام ہوتا ہے یہاں تک کہ پولیس بھی ایک بدمعاش کے کہنے پر بعض مکانوں کی تلاش شروع کر دیتی ہے تو کیا وجہ کہ انبیاء کے کہنے پر کوئی کام نہ کیا جائے جس کا تجربہ بارہا کئی جماعتیں کر چکی ہیں۔پھر فرمایادعاؤں میں،نمازوں میں قائم رہتے ہیں، وہ مالوں کو خرچ کرتے ہیں  اور اور اٰخرۃ پر ان کا ایمان ہوتا ہے۔پھر دوسرے گروہ کی صفات بیان کیں کہ ان کے لئے تذکیر و عدم تذکیر مساوات کا رنگ رکھتی ہے۔وہ سُنتے ہوئے نہیں سُنتے۔ان میں عاقبت اندیشی نہیں ہوتی صُمٌّ بُکْمٌ ہوتے ہیں پھر انہی کی نسبت اخیر قرآن میں فرمایا کہ ایسے لوگوں کو مَاکَسَبَ یعنی جتھا اور مال دونوں پر بڑا گھمنڈ ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ دونوں کو غارت کر دیتا ہے۔پھر تیسرے گروہ ضَالُّوْن کا ذکر فرمایا کہ ان کو صفاتِ الہٰی کا صحیح علم نہیں ہوتا اور ان میں نہ تو قوّتِ فیصلہ ہوتی ہے نہ تابِ مقابلہ۔قرآن شریف کے ابتداء کو آخر سے ایک نسبت ہے۔پہلے مُفْلِحُوْنَ فرمایا ہے تو میں اس کی تفسیر کر دی اور مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ کی تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ میں اور ضَآلِّیْن کا رَدّ قُلْ ھُوَ اﷲُ اَحَدٌ میں کر دیا ہے۔غرض عجیب ترتیب سے اِن تینوں گروہوں کا ذکر کیا ہے۔اِن سب کی صفات کا ذکر کر کے ، میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم سوچو مُنْعَمْ عَلَیْھِمْ میں سے ہو یامَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ میں… یا ان لوگوں میں جن کو ضَآلِّیْن کہا گیا ہے۔(بدر