حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 95 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 95

امورِ مخفیہ سے ہے اور حواسِ باطنہ سے تعلق رکھتا ہے لہٰذا ایمان کے بیان میںلَا  فرمایا ہے جو کہ باطنی علوم پر بولا جاتا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ جس طرح یہاں پر کَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ فرمایا ہے اس طر ح کے فساد کے متعلق کَمَا کو ذکر نہیں فرمایا اِس لئے ایمان میں تو ان کو کہا گیا ہے کہ فلاں کی مانند ایمان لاؤ اور اس کی مثل ہو سکتی تھی لہٰذا یہاں پرکَمَالایا گیا اور فساد میں ان کے واقعی فساد کا بیان ہے اور چونکہ منافقوں کا فساد بے مثل تھا اور اس کے بے مثل ہونے کا بیان کرنا مقصود تھا لہٰذا فساد کے بیان میں کَمَا کو ذکر نہیں کیا۔(رسالہ’’ تعلیم الاسلام‘‘ قادیان فروری ۱۹۰۷ء) جب ان سے کہا جائے کہ ایمان لاؤ جیسے کہ عام لوگ ایمان لائے تو کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جیسے یہ کم عقل لوگ ایمان لا رہے ہیں۔سُنو! یہی بے عقل ہیں لیکن یہ علم انہیں کہاں کہ اپنی بے عقلی کو سمجھیں… جب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے سرداروں کے پاس تنہا ہوتے ہیں تو کہتے ہں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم انہیں خفیف بنانے والے ہیں۔ھُذوا کے معنے ہیں کسی کو خفیف بنانا اور یہ ٹھٹھے کالازمہ ہے۔اﷲ انہیں ذلیل کرے گا اور ان کو ڈھیل دیتا ہے اور الہٰی حدبندیوں سے گزر کر اندھے ہو رہے ہیں لمبا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔چونکہ اِس مُلک کے لوگ عربی سے نابلد ہیں اِس لئے انہیں یہ سمجھانا کہ مشاکلت کے لئے ہے فضول ہے سیدھا جواب یہی ہے جو ہم نے معنوں میں ظاہر کیا۔یہی لوگ ہیں کہ جنہوں نے ضلالت کو ہدایت کے بدلے خرید لیا۔تو ان کی تجارت نے نفع نہ دیا اور وہ ہدایت یاب نہ ہوئے۔پراعتراض ہے کہ جب ان کے پاس ہدایت نہیں تو یہ خرید و فروخت کیسی؟ اِس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ ان کو ہدایت لینی چاہیئے تھی پر انہوں نے نہ لی۔دومؔ یہ کہ انسان کی فطرت میں ہدایت کا مادہ ہے مگر انہوں نے اس کے بدلے گمراہی کو لیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍فروری ۱۹۰۹ء) اﷲ تعالیٰ نے اِس (سورۃ فاتحہ۔ناقل) میں تین فرقوں کا ذکر کیا ہے کاایک ۲۔ایکمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ۳۔ایک۔میرا اعتقاد ہے کہ تمام قرآن سورۃ الحمد کی تفسیر ہے اور اس میں ایک خاص ترتیب سے انہی تین گروہوں کا ذکر ہیچنانچہ سورۃبقر کو