حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 94 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 94

   ماؔ مصدر یہ ہے جو کہ اپنے مابعد کے فعل کو بمعنے مصدر بنا دیتی ہے لہٰذا اٰمَنَ جو اسکے بعد آیا ہے اس کے معنے ایمان لانے کے ہیں نہ یہ کہ وہ ایمان لائے۔ال جِنس کے لئے ہے یعنی جنس انسان اور کبھی اس سے معتبر افراد مُراد ہوتے ہیں تو اِس لحاظ سے یہاں پر کامل انسان مراد ہوں گے۔سَفِیْہٌ کہتے ہیں ضعیف العقل، کذّاب، جَلدباز، بڑے ظالم، مخالفِ حق، ضعیف الرّائے، اَنجان کو۔اِسی وجہ سے بچّوں اور عورتوں کو سفھاء کہا گیا ہے جیسا کہ اِس آیتِ کریمہ میں ہے ( النّساء:۶) ( نہ دوضعیف العقلوں کو اپنے مال) یعنی بچّوں اور عورتوں کو۔اٰمَنَ النَّاسُ :کمال ایمان لانا، نامناسب کے ترک کرنے اور مناسب کے کرنے کے ساتھ ہوتا ہے۔اَنُؤْمِنُ میںجو استفہام کا ہمزہ ہے یعنی دریافت کرنے کا۔یہ یہاں پر انکار کے لئے ہے۔پس ’’ کیا ہم ایمان لائیں‘‘ کا مطلب یہ ٹھہرا کہ ہم سے ایسی بیوقوفانہ حرکت کبھی نہیں ہو سکتی یعنی ہم ایسا ایمان نہ لائیں گے۔اور ان دونوں کے لانے سے مطلب یہ بنا کہ گویا منافقوں کو کہا گیا کہ ایسا کامل ایمان لے آؤ جیسا کہ وہ کامل لوگ لائے ہیں۔ان کے فساد کے وقت تو ان کی نسبت لَاَ فرمایا ہے اور ایمان کے بیان میںلَا فرمایا ہے اِس لئے کہ فساد ایک ظاہری اور محسوس امر ہے لہٰذا اِس میںلَاَ فرمایا جو کہ حواسِ ظاہرہ کے علم کو کہتے ہیں اور ایمان کے بہت کچھ لوازم اور آثار اگرچہ محسوس بحواسِ ظاہرہ ہیں لیکن چونکہ نفسِ ایمان