حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 90 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 90

بات اور حکم پر وہ اَمَنَّا وَ صَدَّقْنَاکہیں گے حالانکہ ان کے دِل میں وہ بات نہ ہو گی۔گویا اس طرح سے ان کو زیادہ جُھوٹ بولنا پڑے گا اور جن جن باتوں کو ان کے دل تسلیم نہیں کرتے ان ان باتوں کو زبان سے ماننا پڑے گا اور انجام یہ ہو گا کہ ہلاکت کا طعمہ بن جاویں گے۔(بدر ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۱۱) جیسے ایک مریض بعض اَوقات اپنا ذائقہ تلخ ہونے کی وجہ سے مصری کو بھی تلخ بتاتا ہے وہ کہہ دیتا ہے کہ مجھے اِس سے لذّت نہیں آتی۔اس کے کہنے پر کیا انحصار ہے خدا تعالیٰ نے خود فیصلہ کر دیا ہے  اورپھر صاف صاف ارشاد کر دیا(الواقعہ:۸۰)۔جس جس قدر انسان پاکیزگی تقوٰی طہارت میں ترقّی کرے گا اُسی اُسی قدر قرآن شریف کے ساتھ محبّت اس کے مطالعہ اور تلاوت کا جواس پر عمل کرنے کی توفیق اور قوّت اسے ملے گی لیکن اگر خدا تعالیٰ کے اَحکام اور حدود کی خلاف ورزی میں دلیری کرتا ہے اور گندی صحبتوں اور ناپاک مجلسوں اور ہنسی ٹھٹھے کے مشغلوں سے الگ نہیں ہوتا۔وہ اگر چاہے کہ اس کو قرآن شریف پر غور و فِکر کرنے کی عادت ہو تدبر کے ساتھ اسکے مضامینِ عالیہ سے حَظ حاصل کرے۔ایں خیال است و محال است و جنوں (الحکم ۱۰؍اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۷) صرف زبانی دعوٰی کرنے والوں کے دِلوں میں ، جنہیںنہ قوّتِ فیصلہ نہ تابِ مقابلہ، مرض ہے۔اﷲ اس مرض کو بڑھائے گا اِس طرح پر کہ جُوں جُوں اسلام کے مسئلے برھیں گے انکے دِل میں شبہات بڑھیں گے یا عملی طور پر انکار کریں گے۔پھر یہ چھوٹی سی جماعت کے مقابل میں رَگیدی ہیں تو بڑوں کے سامنے کیا کچھ بُزدلی نہ دکھائیں گے یا تھوڑے مسائل کا فیصلہ نہیں کر سکتے تو بہت سے مسائل کا فیصلہ کیا کریں گے۔چونکہ انہوں نے جُھوٹا دعوٰی ایمان کا کیا اِس لئے ان کو دُکھ دینے والا عذاب ہے۔(الفضل ۶؍ اگست ۱۹۱۳ٔء صفحہ ۱۵) جب ہمارے نبی کریم اور رسول رؤف رحیم صلّی اﷲ علیہ وسلم مکّہ معظمہ سے مدینہ طیّبہ میں رنق افروز ہوئے تو چنددشٹ منافق، دِل کے کمزور ، جن میں نہ قوّتِ فیصلہ تھی اور نہ تابِ مقابلہ، آپ کے حضور حاضر ہوئے اور آخربڑے بڑے فسادوں کی جَڑ بن گئے۔وہ مسلمانوں میں آ کر مسلمان بن جاتے اور مخالفانِ اِسلام کے پاس پہنچتے تو مسلمانوں کی بَدیاں کرتے… اِس شریر گروہ کے متعلق یہ آیت ہے … اِس کا مطلب یہ ہے کہ