حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 84
کرتا، اپنے بندوں سے کلام کرتا، ان کی ہدایت کے لئے نبی اور رسول اور مجدّد مبعوث کرتا، جو اس کا طالب ہوتا اس کو اپنی راہیں دکھاتا، نیکی کا بدلہ نیک اور بَدی کا بدلہ بَد دیتااور اپنے دوستوں کو عزّت دیتا اور ان کے لئے خوارق عادت کام کرتا اور اپنے دوستوں کے دشمنوں کو ذلیل کرتا، ایسے خدا کو جو ماننے والا ہو اُسے نفاق کی کیا ضرورت ہے اور کِس کا ڈر ہے کہ وہ حق کو چھپاوے اور دَر پَردہ خدا کے دشمنوں سے بھی تعلّقات رکھے۔یَوْمِ الْاٰخِرِپرایمان کے یہ معنے ہیں کہ انسان جزا سزا کا قائل ہو۔اس کے دِل میں یہ بات جمی ہوئی ہو کہ نیکی کا بدلہ بَدی اور بَدی کا بدلہ نیکی نہیں ہو سکتا۔پھر جس کو یہ ایمان حاصل ہو اور ادھر وہ خدا کو ایک متصرّف مقتدر ہستی مانتا ہو تو بتلاؤ نفاق کہاں رہیگا۔اِس لئے خدا تعالیٰ آگے فرماتا ہے کہ یہ لوگ اِس دعوٰی میں جُھوٹے ہیں۔صرف ظاہری باتوں اور فعلوں سے دکھلانا چاہتے ہیں کہ ہم بھی مومن ہیں۔۔وہ مومن ہرگز نہیں ہیں۔جب ماؔ کا صِلہ باؔ آوے تو اس سے تاکید مُراد ہوتی ہے واؤ یہاں حالیہ ہے۔(البدر ۱۷؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰۲ نیزرسالہ تعلیم الاسلام قادیان بابت جنوری ۱۹۰۷ء) بہت لوگ ایسے ہیں جو کہہ تو دیتے ہیں کہ ہم اﷲ اور یومِ آخرت پر ایمان لائے مگر وہ ذرا بھی مومن نہیں ہوتے۔ایمان کے سبق کا شروع اﷲ پر ایمان لانے سے ہے اور اسی سبق کا اختتام آخرت کے ماننے پر ہے اِس لئے اس کے اندرونی حصّوں کا ذکر نہیں آیا وہ سب ان دونوں کو ماننے میں آ گیا۔اﷲ پر ایمان جبھی مکمّل ومسلّم ہو سکتا ہے جب اس کے ملائکہ، کتب و رسولوں پر ایمان لایا جاوے۔ماننے کے معنے صرف زبان سے کہنا نہیں بلکہ قلب کی تصدیق اور عملوں کے ذریعہ اپنے ایمان کا ثبوت ضروری ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۴؍فروری ۱۹۰۹ء) قرآن میں بہت جگہ پر اِس قِسم کا ذکر پایا جاتا ہے کہ اکثر لوگ اِس قِسم کے بھی ہؤا کرتے ہیں کہ زبان سے تو وہ بڑے بڑے دعوے کیا کرتے ہیں مگر عملی طور پر کوئی کارروائی نہیں دکھاتے۔زبان سے وہ ایسی ایسی باتیں بھی کہہ لیتے ہیں جن کو ان کے دِل نہیں مانتے۔