حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 82 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 82

ان کے دلؔ،کانؔاور آنکھؔ کسی حقیقت تک پہنچنے سے محروم کر دیئے گئے ہیں۔نہ حق داخل ہو سکتا ہے نہ کفر نِکل سکتا ہے۔قُلُوْب… جمع قلب کی بمعنے دل۔اِس سے مراد گوشت کا وہ ٹکڑا نہیں ہے جو آنکھوں سے نظر آتا ہے وہ تو ایک گدھے میں بھی ہوتا ہے بلکہ قوّتِ ادراکیہ جس کا ایک مجہول الکنہ تعلق اس انسانی قلب کے ٹکڑے سے ہے۔قلب پر خَتم کا یہ باعث ہؤا کہ ان کو قلبِ الٰہی اِس لئے دیا گیا تھا کہ وہ سوچتے کہ یہ شخص ( محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ) مدّت سے ہم میں رہتا ہے۔اِس کے اخلاق،عادات، تعلّقات، معاملات لین دین وغیرہ سب امور پر نظر مارتے، اس کی گذشتہ زندگی کو جانچتے، اس کی خلوت، جَلوَت کے حالات کا مطالعہ کرتے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعوٰی کیا اور فرمایا قَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ۔اِس دعوٰی اور تحدّی پر غور کرتے جب اس نے قلب سے قلب کا کام نہ لیا اور اس کو معطّل رکھا تو آخر اﷲ تعالیٰ نے وہ نورِ ایمان ان سے لے لیا۔سَمْع۔بمعنے کان اور سُننا۔اِس پر ختم کا یہ باعث ہؤا کہ اگر اس کا قلب اِس قابل نہ تھا تو پھر کانوں سے آپ کی(یعنی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم) کی تعلیمات اور دعاوی اور دلائل کو ہی سُنتا مگر جب یہ بھی نہ سُنا تو آخر خدا نے یہ قوّت بھی لے لی۔ابصار۔بمعنی بصر یعنی بینائی۔اس پر پَٹی اِس لئے پڑ گئی کہ سمع اور قلب کے جاتے رہنے کے بعد اگر قوّتِ بینائی سے جو باقی رہ گئی تھی اس سے کام لیتا۔آپ کے ساتھ جو نشان تائیداتِ الہٰی کے تھے اُن پر نظر ڈالتا۔اپنے شہر کے چیدہ اور قابلِ قدر آدمیوں کو دیکھتا کہ وہ کِس کے ساتھ ہوتے جاتے ہیں تو بھی اُسے راہِ احق مِل جاتا مگر جب اس نے اس سے بھی کام نہ لیا تو خدا نے یہ بھی اس سے لے لیا۔غرضیکہ کفر کیا تو قلب گیا۔اِنذار اور عدمِ اِنذار کو برابر جانا تو کان گئے۔تائیداتِ سماویہ کو نہ دیکھا تو آنکھیں گئیں۔ کے معنے جھلی، پَردہ۔۔اُس کو کہتے ہیں جو ہر ایک پہلو سے بڑا ہو۔چونکہ انہوں نے ہر ایک پہلو سے صداقت کو چھوڑا جس کے لئے عذابِ عظیم ہی مناسبِ حال تھا جو کہ ہر طرف سے اُن کو احاطہ کرتا۔( بدر جلد ۲ نمبر۷مورخہ ۶؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵۴) اس سوال کے جواب میں کہ چب خدا کی مُہر دلوں پر لگ گئی تو ہدایت کیونکہ ممکن ہے؟ فرمایا:اِسی قُرآن میں مُہر کی وجہ اور جس لاکھ کی مُہر ہے اس کا پتہ اور اس کاسبب مرقوم ہے وہ سبب