حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 81
اسی طرح اگر آنکھ کو تم چالیس دن تک ایسی پَٹّی باندھ چھوڑو کہ اُس سے کچھ نظر نہ آوے تو آخرکارپھر اس سے قوتِ بینائی کم ہو جاوے گی۔اسی طرح سے جو لوگ نیکی کی قوتوں سے کام نہیں لیتے آخرکار وہ دن بدن کمزور ہو کر زائل ہو جاتی ہیں اور ان کے مقابل پر بَدی کی قوّت ترقّی پکڑتی پکڑتی آخر کار ایک جُزوِ طبیعت ہو جاتی ہے۔پس جو لوگ بدکاریوں میں مُبتلا ہیں ان کا علاج یہی ہے کہ وہ ان کو دن بدن دبانا شروع کریں اور نفس کی مخالفت پر زور دیویں اور ساتھ ہی ساتھ اﷲ تعالیٰ سے بھی مدد مانگتے رہیں آخرفکار وہ ایک دن اُن سے نجات پا جاویں گے کیونکہ جیسے ہم نے پیشتر بیان کیا ہے خدا کا لاتبدیل قانون یہی ہے کہ ہر انسانی فعل کے بعد ایک فعلِ الہٰی صادر ہوتا ہے۔انسان اگر نیکی کے قوٰی سے کام لیتا ہے تو خدا تعالیٰ دن بدن اُسے اَور برکت دیتا ہے حتّی کہ نیکی اس کی طبیعت کا جُزو ہو جاتی ہے۔شُکرِ نعمت پر ازدیادِ نعمت کی یہی فلاسفی ہے اور جو لوگ خدا تعالیٰ کے دیئے ہوئے قوٰی سے ٹھیک کام نہیں لیتے وہ دن بدن بدیوں پر دلیر ہو کر خدا کا غضب حاصل کرتے ہیں یعنی وہ خدا کی نِعمت کا کفر کرتے ہیں اِسی لئے عذاب کے مستحق ہوتے ہیں۔پس اِس تفصیل سے خوب ظاہر ہو گیا ہے کہ میں کسی قِسم کا جبر انسان کے اُوپر نہیں ہے کیونکہ تو ایک فعلِ الہٰی ہے جو کہ انسانی فعل کے بعد حسب قانونِ قدرت ضروری صادر ہونا تھا۔خدا تعالیٰ نے ہدایت کے سامان ان کے لئے مہیّا کئے مگر انہوں نے اُن سے کام نہ لیا اِس لئے جو قوٰی ترقّیٔ ایمان کے ان کو عطا ہوئے تھے وہ ان سے لے لئے گئے اور حکمتِ بالغہ کا یہی نتیجہ ہونا چاہیئے تھا۔دیکھو اگر آج تم میں سے ایک کو تحصیلداری کے اختیارات دیئے جاویں لیکن وہ ان کو استعمال نہ کرے اور تمام دن اَور ہی کام کرتا رہے تو کیا گورنمنٹ وہ اختیارات اس کے پاس رہنے دے گی ؟ ہرگز نہیں۔پس جبکہ دُنیاوی مصلحت اور حکمت اِس امر کا تقاضا نہیں کرتی تو خدا تعالیٰ پر کیوں یہ امر لازم ہو سکتا تھا۔خَتَم۔اِس کے معنے نشان کے ہیں۔ں دوسرے مُہر کے۔اوّل معنوں کی رُو سے یہ معنے ہوئے کہ اﷲ نے ان کے دلوں اور کانوں پر نشان یا علامت کر دی تاکہ فرشتہ یا فرشتوں کے رنگ کی انسانی مخلوق ان کو پہچان کر ان سے مناسبِ حال سلوک کرے۔اہلِ فراست ان کو پہچان کر ان سے پرہیز کریں۔دوسرے معنوں کی رُو سے یہ معنے ہوئے کہ جب کسی شئے پر مُہر لگ جاتی ہے اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ کوئی شئے اس کے اندر اَب نہ داخل ہو سکتی ہے نہ باہر آ سکتی ہے یعنی اَب