حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 79 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 79

کہا کہ دوسرے تماش بین جو تمہاری لڑکیوں کے پاس آتے ہں وہ ان لڑکیوں کو اپنی لڑکیاں خیال کرتے ہیں؟ وہ بھی غیروں کی سمجھ کر آتے ہیں۔اِس بات کو سُنکر پھر اُسے کلام کی جُرأت نہ ہوئی۔( البدر ۲۷؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۴۶) اِسی طرح ایک دفعہ ڈاکو اور چوروں سے مَیں نے پوچھا کہ تم ڈاکہ اور چوری کو گناہ خیال کرتے ہو؟ انہوں نے کہا ہرگز نہیں۔مجھے چونکہ ان کے انتظامات کا عِلم تھا کہ ڈاکو کِس طرح اکٹھے ہوتے ہیں اور چور کِس طرح نقب زنی کرتے ہیں۔کہاں کہاں پہرہ ان کا ہوتا ہے۔پھر ایک اندر جاتا ہے ایک سامان کو پکڑنے والا ہوتا ہے۔ایک ڈاک چوروں کی بندھی ہوئی ہوتی ہے کہ مال کو جھٹ دوسری جگہ پہنچادیں۔پھر جس زرگر سے ان کی سازش ہوتی ہے وہ سونا چاندی گلانے کا سامان تیار رکھتا ہے کہ دیر نہ ہو۔مَیں نے ان سے پوچھا کہ جب تم آپس میں مال ایک دوسرے کے حوالے کرتے ہو تو اگر اس میں سے دوسرا کچھ نکال لیوے یا اگر کہیں دباتے ہو تو دوسرا چوری سے کھود کر لے لے اور تم کو اطلاع نہ دے یا زرگر اپنے مقررہ حصّہ سے کچھ زیادہ رکھ لے تو پھر کیا کرتے ہو۔اِس پر طیش میں آ کر انہوں نے جواب دیا کہ ہم ایسے خائن بے ایمان کی گردن مار ڈالیں۔مَیں نے کہا کہ خیانت اور چوری تو تمہارے نزدیک گناہ نہیں پھر اس کو سزا کیوں دیتے ہو؟ کہنے لگے کہ نہیں جی ایسے بے ایمان کو ہم کبھی شامل ہی نہیں کیا کرتے۔پھر مَیں نے ان کو کہا کہ جب تمہارا مال کوئی بے ایمانی سے لے تو تم اسے گناہ کہتے ہو بتلاؤ تم جو دوسروں کا مال لیتے ہو اور وہ نامعلوم کن کن مشکلوں سے انہوں نے کمایا ہؤا ہوتا ہے یہ کونسی ایمانداری ہے؟ غرضیکہ اِن نظائر سے پتہ لگتا ہے کہ ہر بدکار اپنی بدی کے ارتکاب میں ضرور ملزم ہے۔ہاں اب یہ سوال ہو سکتا ہے کہ اِنسان اِن بدکاریوں کا کیوں ایسا مُرتکب ہوتا ہے کہ پھر چھوڑ نہیں سکتا یا اگر چھوڑنا چاہے تو اس کا کیا علاج ہے؟ تو اِس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو جو قوٰی عطا کئے ہیں اُن سے جب ان کے تقاضا کے موافق حسبِ فرمودہ الٰہی وہ کام نہیں لیا جاتا تو ان کی قوّت زائل ہو جاتی ہے