حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 78 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 78

لوگوں سے بالکل علیحدہ اور متمیّز ہوتی ہے پھر جس حال میں کہ قدرت نے ان کی ساخت ہی ایسی بنائی ہے وہ کس طرح جواب دِہ ہونے چاہئیں۔اِس کا جواب یہ کہ اِس سوال کا تعلق عِلم قیافہ سے ہے جو ایک مومن کا کام ہے۔حدیث شریف میں ہے اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہ‘ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اﷲِ کہ تم مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اﷲ کے عطا کردہ نور سے ہر ایک شئے کو دیکھتا ہے یا کہجس انسان کو اﷲ تعالیٰ نے ایسے اعضاء دیئے ہیں کہ وہ ان کو دبا سکتا ہی نہیں ہے ان کا نام مجنون رکھا ہے جن پر شریعت کا کوئی حکم جاری نہیں ہے ہاں اگر اس کے اندر کچھ نہ کچھ قوّت ان اعضا ء کے تقاضا کو دبانے کی ہے تو وہ ضرور قابلِ مؤاخذہ ہیں کیونکہ جب وہ بعض حالتوں میں ان قوٰی کو دبا سکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ حکمِ خداوندی سے نہیں دبا سکتے یا کم از کم اپنے اس فعل پر نادم ہو کر ان کے دبانے کے لئے اﷲ تعالیٰ سے مدد نہیں مانگ سکتے۔ہم نے خود مجنونوں کو دیکھا ہے کہ ان میں کچھ نہ کچھ قوّت ضرور باقی رہتی ہے۔روٹی وہ ضرور کھاتے ہیں بعض کو پیسہ مانگتے بھی دیکھا ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ کچھ نہ کچھ قوّت ضرور باقی ہوتی ہے۔اِسی طرح ہم ایک چور اور ڈاکو کو دیکھتے ہیں کہ اگر یہ افعالِ بَد اُن سے بہ تقاضائے فطرتی صادر ہوتے ہیں تو پھر وہ حفاظت کا کیوں انتظام کرتے ہیںاور جب ان کو خطرہ ہو کہ ہم پکڑے جاویں گے تو کیوں بھاگتے ہیں۔پس معلوم ہؤا کہ ان میں اپنے آپ کو سنبھالنے اور اپنے قوٰی کو دبانے کی قوّت بھی ہے اور اسی کا نام توبہ ہے کہ جب انسان ایک طاقت کو بار بار دباتا تو وہ آخر کار زائل ہو جاتی ہے اور یہی شریعت کا حکم ہے۔ہاں اگر اس میں دبانے کی طاقت نہیں ہے تو وہ مجنون اور پاگل ہے اس پر کوئی حکم شریعت کا نہیں ہے۔جو شخص بَدی کو بَدی جان کر کرتا ہے وہ ضرور قابلِ مؤاخذہ ہے۔بعض قومیں ایسی بھی ہیں کہ وہ کہتی ہیں کہ جن کو تم بَدی کہتے ہو ہم اُن کو بَدی نہیں تصوّر کرتے۔مگر وہ اپنے اقوال میں جُھوٹے ہیں اور شرارت سے یہ بات کہتے ہیں۔ایک دفعہ ایک کنجر سے مجھے گفتگو کرنے کا اِتفاق ہؤا اُسنے کہا کہ ہم زنا کو ہرگز بدکاری نہیں سمجھتے۔مَیں نے اُس سے پوچھا کہ اگر یہ تمہارے نزدیک بدکاری نہیں ہے تو پہلوؤں سے یہ کام کیوں نہیں کرواتے۔تب اُس نے کہا کہ وہ غیر کی لڑکی ہوتی ہے اُس سے یہ خرابی اور گند کروانا ٹھیک نہیں ہے۔اس کم بخت نے اپنے مُنہ سے اِس کام کو خرابی اور گند کہا حالانکہ اوّل کہہ چکا تھا کہ ہم زنا کو بدکاری نہیں خیال کرتے۔مَیں نے اُسے ملزم کیا اور