حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 77 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 77

مختار یا مجبور کی حالت میں اِنسان کو سزا دیوے۔اِس پر یہ سوال ہوتا ہے کہ پھر انسان سے کیوں بازپُرس ہے؟ تو اِس کا جواب یہ ہے کہ جب ایک کو دخل اور تصرّف دے کر نتائج سے آگاہ کر دیا جاتا ہے اور یہ سب اُسے حاکمانہ حیثیّت سے عطا کر کے بتلایا جاتا ہے تو اس وقت اگر کوئی خلاف ورزی کرے تو وہ قابلِ مؤاخذہ ضرور ہوتا ہے۔دنیاوی حکّاموں اور سلطنتوں میں اِس کی نظیریں موجود ہیں کہ ایک عہدہ دار یا ملازم کو دخل اور تصّرف مال و زَریا دیگر اشیاء سرکاری پر دیا جاتا ہے، اس کے اختیارات کا اسے علم ہوتا ہے، اس کی حدود مقرر ہوتی ہیں اور جب ان کو ٹھیک ٹھیک بجا لاوے تو قابلِ انعام و شُکریہ ہوتا ہے خلاف ورزی کرے تو سزا پاتا ہییہی حال انسان کا اِس دُنیا میں ہے اور خود آسمانی کتابوں کا نازل ہونا اِس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے ورنہ شریعت اور قانون کی کوئی ضرورت نہ تھی۔اِس سے ہم کو پتہ لگتا ہے کہ انسان کی جواب دہی اس حال میں ہے جب کہ وہ اپنے مولیٰ کریم کی طرف سے نتائجِ اعمال سے آگاہ کیا گیا ہے۔یہ آگاہی اُسے بارگاہِ ایزدی میں جوابدہ بناتی ہے۔اگر یہ بات نہ ہوتی تو پھر آسمانی کتابوں کا نازل کرنا، انبیاء اور ان کے خلفاء کو مبعوث کرنا خدا کا ایک بے سُود فعل ہوتا۔جیسے آنکھ اپنا کام کرتی اور وہ کان کا کام نہیں دے سکتی اِسی طرح انسان فرشتوں کی طرح بنایا جاتا مگر اس طرح کی بناوٹ سے وہ کسی ثواب اور اَجر کا مستحق نہ ہو سکتا تھا کیونکہ ثواب اور انعامات وغیرہ کا انسان اُسی وقت مستحق ہوتا ہے جب وہ کوئی امر خلافِ طبع کر کے دکھاتا ہے۔ایک پیشہ ور اگر اپنی خواہشِ طبعی کے موافق گھر بیٹھا رہے اور اپنے نفس کے خلاف کوئی تکلیف حرکت کرنے کی اپنے اعضاء سے کام لینے کی گوارانہ کرے تو وہ کب کچھ حاصل کر سکتا ہے مگر جب تک وہ اس آرام کو چھوڑکر کچھ تکلیف خلافِ نفس گوارانہ کرے وہ کچھحاصل نہیں کر سکتا۔اِسی طرح خادم اپنے آقا کو، ملازم اپنے افسر کو خوش نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ کچھ اپنے خلافِ نفس نہیں کرتا۔یہ شب و روز کا نظّارہ اس امر کو خوب ظاہر کرتا ہے کہ انسان کے اندر نتائجِ اعمال کا عِلم ہے جس سے وہ ترقّیٔ مراتب کی کوشِش کرتا رہتا ہے۔پس جن راہوں پر وہ چل کر انعام اور ترقّی حاصل کرتاہے ضرور ہے کہ جب ان کو ترک کرے تو نقصان بھی اُٹھاوے۔بعض لوگ یہ اعتراص کرتے ہیں کہ بعض انسانی قوٰی کی ساخت ہی اِس قِسم کی واقع ہوئی ہے کہ اس قِسم کے اعضاء والوں سے وہ حرکات ہی ناشائستہ سرزد ہوں مثلاً ڈاکو، چور وغیرہ جو ہوتے ہیں دیکھا جاتا ہے کہ ان کی کھوپریوں کی ساخت ایک خاص قِسم کی ہوتی ہے جو دوسرے