حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 74
روحانی قوّتوں، طاقتوں سے کام نہ لینے سے شروع ہؤا جو دِل کی خرابی کا نشان ہے۔(برابر ہو رہا ہے ان کے نزدیک خواہ ڈرایا تُو نے یا نہ ڈرایا تُو نے ) یعنی تیرے ڈرانے کی کچھ پرواہ نہیں کرتے۔یہ دوسرا فعل کافر انسان کا ہے کہ اس نے اپنی عقل و فِکر سے اِتنا کام بھی نہیں لیا۔اگر اس میں یہ خوبی نہ تھی کہ ایمان کے لئے خود فکر کرتا، سوچتا، عقل سے آپ کام لیتا تو کم سے کم رسول کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم کے بیانات کو ہی سُنتا کہ کفر کا نتیجہ کیسا بُرا اور اِس کفر کا انجام کیسا بُرا ہے۔۔نہیں مانتے۔یہ تیسرا فعل کافر انسان کا ہے۔اوّل تو ضرور تھا کہ قلب سے کام لیتا جو روحانی قوّت کا مرکز ہے۔اگر اس موقع کو ضائع کر چکا تھا تو مناسب یہ تھا کہ نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم کی باتیں سُنتا۔پس کان ہی اس کے لئے ذریعہ ہو جاتے کہ ایماندار بن جاتا اور یہ دوسر ا موقع حصولِ ایمان کا تھا۔پھر اگر یہ بھی کھو بیٹھا تو مناسب تھا کہ پکّے ایمانداروں کے چال چلن کو دیکھتا جو ایسے موقع پر اُسی کے شہر میں موجود تھے اور یہ بات اس کافر کو آنکھ سے حاصل ہو سکتی تھی مگر اس نے یہ تیسرا موقع بھی ضائع کر دیا۔غور کرو اگر کوئی دانا حاکم کسی کو مختلف عُہدے سپرد کرے لیکن وہ عہدہ دار کہیں بھی اپنی طاقت سے کام نہ لے تو کیا حاکم کو مناسب نہیں کہ ایسے نکمّے شخص کو عہدہ سے اُس وقت تک معزول کر دے جب تک وہ خاص تبدیلی نہ کرے۔اَب اِسی ترتیب سے دوسری آیت پر غور کرو۔۔مُہر لگا دی اﷲ نے ان کے دلوں پر۔اِس لئے کہ انہوں نے اپنے دِل کا ستیاناس خود کیا اور کفر کیا۔۔اور ان کے کانوں پر۔یہ دوسری سزاہے کیونکہ انہوں نے اپنے کانوں سے کام نہ لیا۔۔یہ تیسری سزا ہے کہ اُن کی آنکھوں پر پٹّی ہے کیونکہ انہوں نے آنکھ سے بھی کام نہ لیا۔ظاہری مثال آپ نے قرآن کریم کے فہم میں دل سے اب تک کچھ کام نہ لیا اور یہ بات مجھے تمہارے سوالوں سے ظاہر ہوئی ہے اور نہ یہ کوشش کی کہ پہلے ان سوالات کے جوابات کسی مسلم متکلّم