حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 70 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 70

ہے وہ ان سے ضرور متاثر ہوتا ہے اسی طرح سے انسانی اعمال کی بھی تاثیرات ہیں کہ اس کا ہر ایک عمل اس کی رُوح پر ایک اثر کرتا ہے اور وہ اثر اس کی ایمانی حالت میں ایک کیفیّت پَیدا کرتا ہے اور جس طرح سے کہ ایک طبیب اغذیہ اور ادویّہ کے خواص سے واقف انسانوں کو مفید اور مُضِر اشیاء کا عِلم بتلاتا ہے اور جو اس کی بتلائی ہوئی بات پر یقین کر کے عمل کرتے ہیں وہ سُکھ اور امن سے رہتے ہیں اور جو نہیں عمل کرتے بلکہ اس کے علم کو غیر ضروری خیال کر کے اپنی ضِد اور ہَٹ پر رہتے ہیں وہ دُکھ بھوگتے ہیں اسی طرح انبیاء کو انسانی اعمال اور افعال اور اقوال کے خواص کا عِلم ہوتا ہے وہ ایسے وقت میں آتے ہیں جبکہ انسان بسترِ بیماری پر ہوتے ہیں یعنی ایک معالج کے حکم میں ان کے پاس آتے ہیں جو لوگ اس کی باتوں کا انکار کرتے ہیں اور جن مُضِر باتوں سے وہ روکتا ہے اُس سے نہیں رُکتے بلکہ اس کی ضرورت کو ہی محسوس نہیں کرتے وہ ضرور دُکھ پاتے ہیں۔یہی بَلا اَب اِس زمانہ میں بھی لوگوں کو لاحقِ حال ہے کہ ایک نذیر کے وجود اور عدمِ وجود کو برابر خیال کر رہے ہیں۔اِس آیت میں خدا تعالیٰ نے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ بتلائی ہے کہ انہوں نے ایمان بِالغیب سے کام نہ لیا اور کفر کیا اور آخرت یعنی نتائجِ اعمال پر جو یقین چاہیئے تھا اس کے نہ ہونے سے ایک مامور کے ڈرانے اور نہ ڈرانے کو برابر جانا یعنی اس کی ضرورت نہ سمجھی۔نتیجہ اِس سے یہ نکلا کہ جب خدا تعالیٰ کی کسی نعمت کی قدر نہیں کی جاتی اور ایک شئے کے ہونے اور نہ ہونے کو یکساں سمجھا جاتاہے تو وہ ایمان جس پر بڑے بڑے علومِ حقّہ کا مدار ہوتا ہے اُسے نصیب نہیں ہوتا جیسے کہ اِس سے پیشتر کِسی حصّہ درسِ قُرآن میں ذکر ہؤا ہے کہ اگر ایک شخص اُستاد کے بتلانے پر الف کو الف اور ب کو ب نہ مانے تو پھر وہ تحصیلِ علوم سے محروم رہے گا اِسی طرح جب ایک شخص عربی یا انگریزی زبان کے سیکھنے اور نہ سیکھنے کو برابر خیال کرے تو وہ ان دونوں زبانوں سے کیا فائدہ حاصل کریگا۔کچھ بھی نہیں۔اِسی طرح سے جو لوگ خدا کے ماموروں پر ایمان نہیں لاتے اور ان کی ہداتیوں پر عمل در آمد نہیں کرتے وہ دو لتِ ایمان سے تہی دست رہتے ہیں۔ایمان اُسی وقت نصیب ہوتا ہے جبکہ اِنذار کو ترجیح دیوے اور یہ بھی انسان کا اختیاری امر ہے کیونکہ ایمان لانے اور کُفر کرنے میں خدا نے کسی کو مجبور نہیں کیا بلکہ فرمایا(الدّھر:۴)یعنی ہم نے اسے راستہ دکھا دیا ہے اب وہ خواہ شاکر ہو خواہ کافر۔بلکہ ایک اَور جگہ فرماتا ہے(الانعام:۳۶)یعنی اگر خدا نے جبر کرنا ہوتا تو ہدایت کے واسطے کرتا کہ سب کے سب مومن ہو جاتے۔(البدر ۱۳؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۰)