حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 67 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 67

ہے ان کو اوّل بیان فرما دیا ہے کہ وہ سب اعمال مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ کے مطابق ہوں۔کلامِ الہٰی کے نزول اور اس کی ضرورت پر ہمیں ریمارک دینے کی ضرورت نہیں ہے براہینِ احمدیہ سے اس کا عقدہ پورے طور پر حل ہوتا ہے۔کو پر اس لئے مقدّم رکھا ہے کہ سب سے مقدّم نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی اِتّباع ہے یعنی وہ  جس کوتصدیق کرتا ہے یہ نہیں کہ جو رطب و یابس اورترجمہ در ترجمہ پادریوں وغیرہ کے اپنے خیالات صُحفِ سابقہ میں ملے ہوئے ہیں ان کو بھیمیں شمار کر لیا جاوے بلکہ سابقہ اور آئندہ سب کا معیار ہے اور اِسی لئےسے بھی یہ مقدّم ہے۔کے ساتھ کاکلمہ استعمال نہیں کیاہے کیونکہ آئندہ مکالمہ الہٰی کا جس قدر سِلسلہ ہو گا وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے طفیل ہو گا اور  سے اس کا وجود الگ نہ ہو گا اور چونکہ اس کے ذریعہ سے  پرایک کامل یقین حاصل ہوتا جاوے گا اِس لئے اٰخرۃکے ساتھکا لفظ رکھا ہے اس کا اطلاق خود نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں خود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات پر اِس طرح ہؤا کہ اِس سورت کے بعد اَور بھی حصّہ قُرآن کریم کا آپ پر نازل ہؤا اور صحابہ ؓ اس کو مان کر گویا اِس آیت پر عامل ہو گئے۔اٰخِرَۃ۔اِس کے معنے پیچھے آنے والی بات کے کئے ہیں۔کلامِ الہٰی پر گفتگو کرتے ہوئے دکھایا ہے کہ آئندہ مکالمہ الہٰیّہ کی طرف اشارہ ہے۔اب اعمال کے لحاظ سے دیکھا جاوے تو ہر ایک عمل کے بعد جو ایک نتیجہ اس کا ہے اس پر یقین کا ہونا ضروری ہے کیونکہ جب تک انسان کے دِل میں یقینی طور پر یہ بات نہ بیٹھ جاوے کہ میرا ہر ایک عمل خواہ اس کا تعلقصرف قلب سے ہے یا اس میں اعضاء بھی شامل ہیں ضرور ایک نتیجہ نیک یا بَد پَیدا کرے گا اور میری اِس عملی تخمریزی پر ثمرات مرتّب ہوں گے تب تک گناہ سے رہائی ہرگز ممکن ہی نہیں ہے اور بُجز اِس علاج کے اَور کوئی علاج گناہ کا نہیں ( دیکھو البدر جلد ۱ صفحہ ۷۹) جب کوئی آگ کو جلانے والی جانتا ہے تو اس میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔بچّہ اُسی وقت تک انگارے کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے جب تک اُس کے دل میں یہ نہیں بیٹھا ہؤا ہوتا کہ یہ جلا دیوے گی لیکن جب یہ عِلم اُسے ہو جاتا ہے تو پھر ہرگز ہاتھ نہیں بڑھاتا۔غرضیکہ گناہ کا صدور اُسی وقت تک ہے جب تک یقینی عِلم گناہ کے بَد نتائج پر نہیں ہے۔جس قدر حرام خوریاں اور فِسق و فجور ہوتے ہیں اگر انسان ایک قلبِ سلیم لیکر