حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 64
موجود تھے، وہی اَسباب تھے ،وہی قوم تھی لیکن جب ان کا ایمان اﷲ تعالیٰ پر بڑھا اور ان کے اعمال میں صلاحیّت اور تقوی اﷲ پَیدا ہؤا تو خدا تعالیٰ کے وعدوں کے موافق وہ دُنیا میں بھی مظفّر و منصور ہو گئے تاکہ ان کی اِس دُنیا کی کامیابیاں آخرت کی کامیابیوں کے لئے ایک دلیل اور نشان ہوں۔یہ نسخہ صرف کتابی نسخہ نہیں ہے بلکہ ایک تجربہ شدہ اور بارہا کا آزمودہ نسخہ ہے جو اسے استعمال کرتا ہے وہ یقینا کامیاب ہو گا اور منعَم علیہ گروہ میں داخل ہو جاوے گا۔پس اگر تم چاہتے ہو کہ بامراد ہو جاؤ،تم چاہتے ہو کہ مُنعَم علیہ بنو تو دیکھو اِس نسخہ کو استعمال کرو۔(الحکم ۱۰ جون ۱۹۰۴ء صفحہ۸) سے وہ سب وحی مراد ہے جو کہ خداوندِکریم نے حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل فرمائی ہے خواہ وہ کِسی رنگ میں ہو اور وہ کُل وحیٔ الٰہی ہے جو کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء پر نازل کی گئی …اور کُل اِس لئے لیا ہے کہ مَا کا لفظ جبکہ یہ موصولہ یعنی بمعنے جوؔ ہو تو عام اور سب کو شامل ہوتا ہے لیکن چونکہ سب انبیاء کا ہم کو علم نہیں جیسا کہ خداوندِ کریم نے فرمایا ہے (المومن: ۷۹) اور بعض انبیاء سے وہ ہیں جو کہ ہم نے تیرے آگے بیان نہیں کئے) تو پھر جو کچھ ان پر اُتارا گیا ہے اس کا ہمیں کب علم ہو سکتا ہے۔پس لفظ مَاکو موصولہ یعنی بمعنے جو ؔقرار نہیں دینا چاہیئے اِس کو مصدر یہ قرار دیا جائے یعنی جو کہ مابعد کے فعل کو مصدر بنا دیتا ہے جس سے فعل اور باقی اسماء بنائے جاتے ہیںتاکہ ترجمہ یہ ہو جائے اور جو ایمان لاتے ہیں تیری طرف اُتارے جانے پر اور تجھ سے پہلے اُتارے جانے پر اور پیچھے آنے والی پر یقین کرتے ہیں اور اِس صورت میں اُن کا رَدّ ہو گیا جو کہ نبوّت کے اور وحی کے مُنکر ہیں جیسے کہ برہمو لوگ ہیں کہ نبوّت کے صریح مُنکر ہیںاور عبداﷲ بن عبّاسؓ اور عبداﷲ بن مسعودؓ اور بہت سے اَور صحابہؓ نے فرمایا ہے کہ الخ سے مراد وہ مومن ہیں جو کہ عربوں میں سے ہوئے ہیںاور الخ سے مراد اہلِ کتاب کے مومن