حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 544 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 544

جائیں حتّٰی کہ سب صداقتوں کے منکر ہو جائیں جو خدا نے اپنے فضل و کرم سے ان پر انبیاء کے ذریعے ظاہر کیں اور اﷲ کی نافرمانی میں بڑھتے جائیں۔( تشحیذالاذہان جلد ۶ نمبر ۱۰ صفحہ۳۹۴، ۳۹۵)    ہر مومن کے کچھ دشمن ہوتے ہیں۔مومن کا دل صاف ہوتا ہے۔اس کے دل میں کپٹ نہیں ہوتی۔نبی کریم ( صلی اﷲ علیہ وسلم) کے دشمن مدینہ کی اطراف میں آپ کے دشمنوں کو اُکساتے رہتے۔فرمایا کہ جلد بازی نہ کریں وہ لوگ۔ہم ان کو عذابِ عظیم دیں گے۔تیرے مُنکر گمان نہ کریں کہ ان کو جو مُہلت دی گئی ہے وہ ان کے لئے مفید ہے۔مُہلت سے بعض لوگ بدی میں اَور ترقّی کرتے ہیں۔یہاں بھی بعض لوگ منافقانہ طرز اختیار کئے ہوئے ہیں۔جس سے ملے اُسی کی سی باتیں کرنے لگے۔ہم کو ایسے لوگوں کی خبر ہو جاتی ہے۔ایسے منافق لوگ انجام کار ذلیل ہؤا کرتے ہیں… یہ مال جس کا یہ بُخل کرتے ہیں … اﷲ تمہارے کاموں کو جانتا ہے۔بعض لوگ بہت سے چندوں کی تحریکیں سُن کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ ان کا اگر خدا سے تعلق ہوتا تو یہ مانگتے ہی کیوں۔سَنَکْتُبُکے معنیسَنَحْفَظُ ہیں۔ہندوؤں میں ایک قربانی ہوتی ہے جس میں آدمی کو جلاتے یا جانور کو جلاتے ہیں۔اب اس کی بجائے گھی، شکر، چاول وغیرہ چیزیں جلاتے ہیں… دُنیا کا بڑا حِصّہ لوگوں نے دھوکہ میں ضائع کیا۔خدا تعالیٰ تم کو فہم عطا کرے اور جھوٹ، حِرص، تکبّر سے بچائے۔محبتیں پیدا کرے۔مسلمان بڑی فضولیاں کرتے ہیں۔اپنی طاقتوں سے بڑھ کر کام نہ کرو۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍جولائی ۱۹۰۹ء) کافر ہیں جنہوں نے کہا کہ اﷲ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔کیا معنی ؟ ہم ان کی بات محفوظ