حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 541 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 541

کہ ایک بڑے آدمی سے مَیں نے کہا۔آپ پڑھتے کیوں نہیں۔تو وہ بڑے جوش میں آ کر کہنے لگا۔کیوں ہم کوئی بندر ہیں؟ سیکھتے تو بندر ہیں شیر نہیں سیکھتے۔مَیں نے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو مَیں بھی ایک مثال پیش کروں۔باز تو سیکھتے ہیں مگر کوّے نہیں سیکھتے۔یہ سُن کر خاموش ہو گیا۔ایسا فرقہ بھی ہے جو اپنے نیک اور بَد کام خدا سے منسُوب کرتا ہے۔تقدیر کے مسئلے کے سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔میری والدہ اعوان قوم سے تھی۔بڑی فہمیدہ عورت تھی۔وہ ہمیشہ ایک مثال دیا کرتی تھی جو آگ کھاتا ہے انگارے ہگے گا یعنی جیسا کرے گا ویسا پائے گا۔وَ الْقَدْرِ خَیْرہٖ وَ شَرِّہٖ مِنَ اﷲِ تَعَالٰیکے معنے بتایا کرتیں کہ ہر نیک و بد عالم کا اندازہ خدا کی طرف سے ہو چکا ہے۔جیسا کریں ویسا نتیجہ پائیں۔قَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًا (الفرقان :۳) ( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍جولائی ۱۹۰۹ء) : یومِ حنین، یومِ اُحد۔صحابہ کی غلطی سے تکلیف پہنچی۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۴۷)   :اُحد کی جنگ میں۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍جولائی ۱۹۰۹ء) :جیل خانے میں جاتا ہے گورنمنٹ کے حکم سے مگر جاتا ہے اپنی بد عملی سے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹صفحہ ۴۴۷)