حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 540 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 540

س میں سب مال چوری ہی کا تھا۔ہمارے دوست ایک اَور طالبِ علم تھے جو اولاد میں سلطان باہُو رحمتہ اﷲ کے تھے انہوں نے کہا ہم خود کچھ انتظام کرتے ہیں یہ لوگ مولویوں کی بات نہیں مانتے۔تم میرے ساتھ چلو وہاں جا کر تم نے کہنا۔آج۔مَیں کہوں گا۔نہیں کل۔چنانچہ ہم گئے اور ایسا ہی کہا۔ایک نوجوان نے حیرت سے کہا کہ کیا بات ہے۔میرے دوست نے کہا یہ قریشی ہیں اور چلے ہیں تمہارے گھر اذان دینے۔اس نے کہا خدا کے لئے ذرا ٹھہر جاؤ اور دوڑتا ہؤا گھر گیا کہ غضب ہو گیا۔ستم ہو گیا۔چنانچہ وہ لوگ ہمارے استاد کے پاس گئے اور کہا ہم بھینسیں لا دیتے ہیں خدا کے لئے ہمارے گھر اذان نہ کہنا۔آخر انہوں نے راز بتایا کہ اِن لوگوں کا خیال ہے قریشیوں نے مسجد میں اذان دی تو وہ ایسی ویران ہوئی کہ نہ اس میں کوئی بھینس باندھی جا سکتی ہے نہ گائے۔پس یہ اذان دے کر ہمارے گھر کو بھی مسجد یعنی ویران بنا دیں گے۔پس وہ ڈر کے مارے بھینس لے آئے۔مَیں نے دیکھا ہے کہ پِیر خود بھی لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔کسی پر ناراض ہوں اور اتّفاق سے کوئی حادثہ پیش آ جائے تو اپنی طرف منسُوب کرتے ہیں مگر انبیاء ایسے نہیں ہوتے وہ توحید کا جوش رکھتے ہیں اِس لئے ہر نیک بات اﷲ کی طرف منسُوب کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ دُکھ اپنی شامتِ اعمال کا نتیجہ ہے۔یہ کی تفسیر ہے۔اِس میں بتایا ہے کہ مصیبت تمہاری نافرمانی کا نتیجہ ہے۔جب اﷲ تعالیٰ کی شریعت کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو سزا ملتی ہے۔قرآن پہلے سیّد و قریش کے گھر سے نکلا (گو اَب اِس نکلنے کے یہ معنے ہیں کہ نکل ہی گیا) اور پھر یہی لوگ اب قرآن سے جاہل ہوتے جاتے ہیں حالانکہ ان کی بڑائی کی وجہ ہی یہی تھی کہ وہ قرآن شریف جانتے تھے۔لوگوں نے قرآن شریف سے دین و دُنیا کے فائدے اُٹھائے ہیں مگر پھر تو نیّتوں میں فتور آ گیا۔ایک محلہ میں بہت سے حافظ رہتے تھے۔والد صاحب نے کہا کہ جانتے ہو کہ یہ کیوں اتنے حافظ ہیں۔مَیں نے کہا فرمائیے۔کہا یہ لوگ کابلؔ کی طرف تجارت کرتے ہیں اور وہاں حفّاظِ قُرآن کے لئے محصُولِ تجارت معاف ہے۔پس یہ حافظ بن جاتے ہیں۔ایک اَور حافظ قرآن شریف یاد کر رہے تھے۔مَیں نے پوچھا آپ قرآن کیوں یاد کرتے ہیں؟ کہا کہ قرآن شریف یاد کر کے کلکتہ جاؤں تو دو سَو روپیہ لاؤں سندھ جاؤں تو ایک سَو روپیہ۔یہ تو پڑھنے والوں کا حال ہے اور جن کو پڑھنا چاہیئے اور نہیں پڑھتے ان کا حال سُنو