حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 539 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 539

جو ان کے ساتھ تعلق پَیدا کرنے سے انسان کے اندر تزکیہ کا کام شروع کرتا ہے۔یاد رکھو انسان خدا کے حضور نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ کوئی اس پر خدا کی آیتیں تلاوت کرنے والا اور پھر مُزکّٰی کرنے والا اور پھر علم اور عمل کی قوّت دینے والا نہ ہو۔تلاوت تب مفید ہو سکتی ہے کہ علم ہو اور علم تب مفید ہو سکتا ہے جب عمل ہو اور عمل تزکیہ سے پَیدا ہوتا ہے اور علم معلّم سے ملتا ہے۔( الحکم ۲۴؍ نومبر ۱۹۰۱ء صفحہ۲) وعظ میں عبودیّت کا رنگ ہو۔اﷲ تعالیٰ کی کتاب پڑھی جاوے۔اس کی حقیقت بتائی جاوے اور پھر اس کی تعلیم سے دل اس قسم کے پیدا ہوں جو اس تعلیم کے ساتھ مطہّروپاک ہو جاویں۔ایک بھی ہزار لوگوں میں ایسا پیدا ہو جاوے تو غنیمت ہے بلکہ اکسیرِ احمر ہے۔(بدر ۳۰؍دسمبر ۱۹۰۹ء صفحہ۲) پہلے لوگوں کو احکامِ الہٰی سُنائے جاویں۔ان کو کتاب و حکمت سکھائی جاوے۔پھر ان کا تزکیہ ہو۔تین مرتبے ہیں یَتْلُوْا۔یُعَلِّمُھُمْ۔یُزَکِّیْھِمْ۔حدیث میں ان کو اسلام ، ایمان ، حسان سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔(بدر ۲۷؍جنوری ۱۹۱۰ء صفحہ ۹)   بہت سے لوگ ہیں کہ انہیں دُنیا کے کاموں میں بہت تکلیف پہنچتی رہتی ہے مگر اس کام کو چھوڑ نہیں دیتے لیکن اگر دین میں کچھ تکلیف پہنچے تو بہت جلدی بے دِلی ظاہر کرتے ہیں۔مَیں ایک بزرگ سے پڑھتا تھا جو ہمیشہ سے سفر میں رہتے۔جب وہ کہیں جاتے مجھے بھی ساتھ جانا پڑتا۔ایک دفعہ کِسی شخص کی بھینس چور لے گئے۔چوروں کا پتہ مل گیا۔ہمارے استاد کو سفارش کے لئے وہ لوگ جن کا نقصان ہوا تھا لے گئے۔وہاں جا کر انہوں نے بہت کچھ کہا مگر چور یہی کہتے۔بدلے کی دینی ہے اصل نہیں دیتے۔اور وہ گاؤں ایسا تھا کہ