حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 525
خودی اور خود پسندی والے ہر بات پر ناک چڑھانے کے عادی ہو جاتے ہیں اور وہ ہمیشہ دوسروں کی نسبت یہی کہتے ہیں۔ہم اسے کیا سمجھتے ہیں۔پس جب کوئی دوسرے کی بات سُنے نہیں تو حق کِس طرح پا سکتا ہے۔ان کی اس خودی اور خود پسندی کی اصل جَڑ تو اُن کے بُت تھے جیسے ہندوستان میں مہاںؔ دیو ہے۔ایسے ہی وہاں ہُبلؔ تھا۔جیسے یہاں دیویاں ہوتی ہیں وہاں نائلہ تھی۔ہربُت کے پجاری لاکھوں روپے کماتے تھے۔انہوں نے جب دیکھا کہ ایک نوجوان ہمارے خاندن کا ہمارے تمام کارخانہ مکر مث پر پانی پھیرنا چاہتا ہے تو وہ آگ بگولا ہو گئے اور ادھر انہی کی قوم کے لوگ ورقہؔ بن نوفل ، علیؔ، صدّیقؔ، زید ؔ بن حارثہ وغیرہ مسلمان ہو گئے تو یہ اَور بھی گھبرائے اور مقابلہ کی ٹھانی اور حتّی الوسع انہوں نے کوشش کی کہ کسی طرح اِسلام کا استیصال کیا جائے۔نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم کو تیرہ برس اِس گھمسان میں گذرے۔دیکھو کِس قدر بڑی ہمّت ، کیسی بلند پروازی ، کتنا محکم ارادہ ہے اور کیسا استقلال تھا۔پھر صحابہؓ میں جن کی قومیّت اور عصبیّت نہ تھی وہ بھاگ اُٹھے۔فرمایا حبشہ میں چلے جاؤ۔وہاں وہ لوگ جا کر رہے۔پہلے رنگ میں تو بتایا کہ شریر سے شریر حکومت کے نیچے کِس طرح مسلمانوں کو رہنا چاہیئے۔دوسری میں یہ بتایا کہ نیک دل عیسائی گورنمنٹ کے تحت میں کیونکر زندگی بسر کرنی چاہیئے۔گویا آپ کو یقین تھا کہ ایک وقت مسلمانوں پر آنے والا ہے کہ وہ غیر قوموں پر حاکم ہوں گے اور پھر ایک وقت وہ بھی آتا ہے کہ وہ محکوم ہوں گے۔یہ تو مکّہ کے حالات تھے۔اب جب آپ مدینہ میں آئے تو یہاں کے رسم و رواج سے آپ کو آگاہی نہ تھی۔ان کی جماعتوں میں کوئی منصوبہ کرتا تو کوئی خبر تک دینے والا نہ تھا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم و ۸؍جولائی ۱۹۰۹ء) منافقوں کے علاوہ ایک طرف یہود تھے۔بنوقینقاع، بنو نضیر، بنو قُرَیظہ۔دوسری طرف پادری جن کا لارڈ بشپ ابوؔعامر ہرقل سے تعلقات رکھتا تھا۔اِس طرح پر اِس سلطنت کا خدشہ تھا۔پھر مدینہ کے مُشرک اوس و خزرج تھے۔پھر یہاں تک ہی بس نہ تھی بلکہ مکّہ والے تجارت کے بہانے سے اِھر اُدھر گھومتے اور ریشہ دوانیاں کرتے پھرتے تھے اور قوموں کو اُکساتے پھرتے۔پھر ایران کے بادشاہوں سے ان کی ساز باز تھی۔ان کو حضرت نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم کی جماعت پر برانگیختہ کرتے رہتے۔چونکہ دشمنوں کا یہاں تک زور تھا اِسی واسطے (المآئدۃ:۶۸(المآئدۃ:۶۸) کا وعدہ ہؤا۔ایسے مشکلات میں اﷲ تعالیٰ تیرا محافظ ہے۔بہر حال اِن حالات میں شریر دشمن نے مدینہ پر حملہ کرنا چاہا۔بنی کریم صلی اﷲعلیہ وسلم نے فرمایا کہ